دھرمیندر: فلمی دنیا کا مداحِ اردو۔۔۔محی الدین التمش
لیجنڈری اداکار دھرمیندر اردو کو اپنی مادری زبان کی حیثیت دیتے تھے۔ وہ نہ صرف اردو پڑھتے اور لکھتے تھے بلکہ اپنے لئے فلموں کے مکالمے اردو میں تحریر کرواتے تھے۔ وہ خود بھی شاعری کرتے تھے۔

بالی ووڈ کے معروف اداکار دھرمیندر فلمی دنیا اور اپنے چاہنے والوں کو سوگوار کر کے گذشتہ دنوں اس دنیائے فانی سے رخصت ہوگئے۔ فلم، گیت اور نغموں کے ذریعے اپنی یادوں کو چھوڑگئے۔ اپنے زمانے کے سپر اسٹار دھرمیندر فلمی دنیا کے ’ہی مین‘ ہونے کے ساتھ ایک نفیس طبعیت اور نرم دل انسان بھی تھے۔ فلمی پردے پر ایکشن ہیرو کی شبیہ میں نظر آنے والے دھرمیندر شاعرانہ مزاج کے حامل تھے۔ ان کے مزاج میں شگفتگی اور لہجے میں نرمی اردو زبان و ادب کی مرحون منت تھی ایسا کہا جائے تو بے جا نا ہوگا۔
دھرمیندر کو اردو زبان سے عشق تھا۔ پنجابی ان کی مادری زبان ضرور تھی لیکن اردو سے انہیں والہانہ عشق تھا۔ وہ اردو کو اپنی مادری زبان تصور کرتے تھے۔ عام بول چال اور میڈیا سے گفتگو کے دوران اردو زبان اور اشعارکا جا بجا استعمال ان کی شخصیت کا حصہ تھا۔ معروف فلم صحافی راجیو وجئے کر نے دھرمیند کی سوانح حیات ’دھرمیندر ناٹ جسٹ اے ہی مین‘ میں اداکار کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے کتاب میں تقریبا پندرہ صفحات پر منحصر ایک باب باندھا ہے جس میں انہوں نے دھرمیندر کی اردو اورشاعری سے محبت کا ذکر کرتے ہوئے ان کی اردو شاعری کو رومن میں نقل کیا ہے۔ راجیو وجئے کر سے رابطہ کرنے پر انہوں نے نمائندہ کو بتایا کہ 2007 میں امریکہ میں علاج کے دوران انہیں اردو شاعری کاجنون پیدا ہوا۔ بقول راجیو وجئے کر دھرمندر نے انہیں ان کے کئی اردو کلام یہ کہتے ہوئے سونپا کہ ان میں سے کلام منتخب کرلیجئے۔ راجیو نے دھرمیندر کی سوانح حیات میں کئی کلاموں کو نقل کیا ہے۔
معروف فلمی مکالمہ نگار اور ڈائریکٹر جاوید دانش نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔ بقول جاوید دانش دھرمندر نے انہیں خود اپنے کلام سنائے ہیں۔ جاوید نے کہا کہ وہ ان کے ساتھ ایک فلم پر کام کر رہے تھے لیکن چند وجوہات کی بناء پر وہ فلم تکمیل تک نہیں پہنچ پائی۔ جاوید دانش جو اسکرین رائٹر ایسوسی ایشن کے اہم ترین رکن اور خزانچی ہیں۔ نے بتایا کہ دھرمیندر کی مادری زبان کے بعد کوئی زبان تھی تو وہ اردو زبان تھی۔ وہ ہندی کی بجائے اردو بولتے لکھتے اور پڑھتے تھے۔ انہیں اردو کے کئی اشعار زبانی یاد تھے۔ اداکارہ مینارہ کماری کے کئی اشعار انہیں زبان زد تھے۔ دھرمیندر مینا کماری کا نام بڑے احترا م سے لیتے تھے۔
بالی ووڈفلموں کے معروف اسکرپٹ رائٹر جاوید صدیقی نے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دھرمیندر اردو کے مداح نہیں تھے بلکہ وہ اردو والے ہی تھے۔ وہ نہ صرف اردو زبان بولتے تھے بلکہ اردو میں ہی لکھتے پڑھتے تھے اور ان کیلئے فلموں کے ڈائیلاگ صرف اردو میں ہی لکھے جاتے تھے۔ جاوید صدیقی نے دھرمیندر کی فلم ’علی بابا چالیس چور‘ اور ’میں بلوان‘ کے مکالمے تحریر کئے ہیں۔ جاوید صدیقی ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ دھرمیندر کیلئے تمام ڈائیلاگ اردو میں ہی لکھے جاتے تھے۔ باقی اداکاروں کے مکالمے دیوناگری یا رومن میں تحریر ہوتے تھے لیکن دھرمیندر کے مکالمے صرف اردو زبان میں تحریر کئے جاتے تھے۔ انہیں اردو میں مہارت حاصل تھی جبکہ انہیں ہندی اتنی روانی کے ساتھ نہیں آتی تھی۔ دھرمیندر کو اردو کے کئی اشعار منہ زبانی یاد تھے اور وہ خود اردو میں شاعری بھی کرتے تھے۔ اردو کتابوں کا مطالعہ ان کا شوق تھا۔ ان کے پاس ہمیشہ اردو کی کتابیں موجود رہا کرتی تھیں۔ بقول جاوید صدیقی دھرمیند ایک نہایت ہی نفیس طبعیت انسان تھے وہ کسی کو چھوٹا بڑا نہیں سمجھتے تھے بلکہ ہر کسی سے شفقت و محبت سے پیش آتے تھے۔
جاوید صدیقی نے 1980 میں ریلیز ہونے والی فلم ’علی بابا چالیس چور‘ کی شوٹنگ کے وقت تاشقند میں دھرمیندر کے ساتھ گذارے ہوئے وقت کا ذکرکرتے ہوئے بتایا کہ ”وہ اس فلم کے ڈائیلاگ لکھ رہے تھے۔ یہ ایک انڈو رشین فلم تھی۔ اس دوران ایک روسی مترجم ان کے ساتھ ہوا کرتا تھاجو روسی گفتگو کو انگریزی میں ٹرانسلیٹ کیا کرتا تھا اور انگریزی والا مترجم اسے ہندی میں ترجمہ کرکے پیش کرتا تھا۔ دھرمیندرکو یہ بات ناگوار گذری انہوں نے درخواست کی کہ ایسے مترجم کا انتظام کیا جائے جسے روسی زبان کے ساتھ ساتھ اردو بھی آتی ہو۔ دھرمیندر کی خواہش پر روسی زبان سے اردو میں ترجمہ کرنے والے مترجم کا انتظام کیا گیا۔ جس پردھرمیندر نے نہایت ہی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس دیار غیر میں اپنی زبان بولنے والا شخص بھی موجود ہے۔
میوزک ڈائیرکٹر اور غزل کمپوزر ذوالفقارعلی کا کہنا ہے کہ دھرمیندر اردو زبان سے بہت محبت کرتے تھے۔ وہ لکھنے پڑھنے کا کام اردو زبان میں ہی کرتے تھے۔ انہیں اردو ادب سے بھی بڑی رغبت تھی۔ ذوالفقار علی کا تعلق بھوپال سے ہے وہ زیل انٹرٹینمنٹ کے بانی ہیں۔ ذوالفقار علی لمبے عرصے تک ممبئی میں اداکار اور فلم پروڈیوسر اجیت سنگھ دیول کے ساتھ منسلک رہے۔ جن کاانتقال 2015 میں ہوا۔ اجیت سنگھ دیول دھرمیندر کے بھائی اوراداکار ابھئے دیول کے والد تھے۔
ذوالفقار علی کا کہنا دھرمیندر اور اجیت سنگھ دیول دونوں بھائی اردو کے مداح تھے۔ دونوں بھائی اردو میں شاعری بھی کرتے تھے۔ دنوں کا پڑھنا لکھنا اردو میں ہی ہوتا تھا۔ اجیت دیول کے پاس بھی اردو کتابوں کا بڑا ذخیرہ موجود تھا۔ ان دنوں اجیت سنگھ دیول کا مجموعہ کلام بھول میں ترتیب دیا جا چکاتھا۔ لیکن چند وجوہات کی بناء پر شائع نہیں ہو پایا تھا۔
ذوالفقار علی نے 1992 کا ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ایک روز ان کی ملاقات دھرمیندر سے ہوئی انہوں نے ذوالفقار علی کو ایک ڈائری دی۔ اس ڈائری کے آخری صفحہ پر دھرمیندر نے معروف شاعر قتیل شفائی کے نام ایک خط تحریر کیا تھا۔ ذوالفقار علی نے مزید بتایا کہ قتیل شفائی دھرمیندر کی درمیان خط وکتابت ہوتی تھی۔ ان کے مراسم فیض احمد فیض سے بھی تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دھرمیندر ان دنوں نہ صرف اردوادب کو بھی زیر مطالعہ رکھتے تھے۔ بقول ذوالفقار علی دھرمیندر کی زبان میں بڑی شفافیت تھی وہ اہل زبان کی اردو بولتے تھے۔
ذوالفقار علی نے دھرمیندر کی اردو دوستی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ پرتھوی تھیٹر میں نیشنل اسکول آف ڈرامہ (این ایس ڈی) ریپرٹری کا ایک اردو پلے ’قید حیات‘ ہونا تھا۔ لیکن غالباً دسہرے کے تہوار کی مناسبت سے شو کے ٹکٹ فروخت نہیں ہورہے تھے۔ جب دھرمیندر کو اس متعلق پتہ چلا تو انہوں نے فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شو کے تمام ٹکٹ خرید لئے اور یہ کہتے ہوئے انہیں اردو والوں میں تقسیم کروا دیا کہ اردو زبان کا پلے خالی نہیں جانا چاہئے۔ ذوالفقار علی نے بتایا کہ ’قید حیات‘ کے ٹکٹ کو انہوں نے خود اردو والوں تک پہنچایا تھا۔
دھرمیندر نے مختلف فلمی اوغیر فلمی ہستیوں کے سامنے اپنی اردو شاعری کا ذکر کیا۔ اس کے ساتھ اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ان کے شاعرانہ کلام منتشر ہیں۔ کچھ افراد نے ان کے کلام کو یکجا کرنے کی بھی کوشش کی۔ لیکن یہ کام پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پایا۔ معروف شاعر اور ہم فیسٹیول کے بانی نظر بجنوری نے بتایا کہ دھرمیندر کو شعر و ادب سے شغف تھا۔ انہوں نے دو مرتبہ دھرمیندر کو بالی ووڈ سے وابستہ افراد کیلئے منعقد مشاعرے میں بطور مہمان شرکت کیلئے مدعو کیا تھا۔ لیکن ایک مرتبہ طبعیت کی ناسازی اور دوسری مرتبہ باہر شوٹنگ شیڈول کی وجہ سے انہوں نے شرکت سے معذرت کرلی۔
دھرمیندر 8 دسمبر 1935 کو پنجاب کے لدھیانہ ضلع کے دیہات نصرالی میں ایک جٹ ہندو خاندان میں پیدا ہوئے۔ والد کیول کشن سنگھ دیول لدھیانہ کے قریب واقع سانیوال گاؤں میں معلم تھے۔ دھرمیندر نے گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول لال تون کلان سے سیکنڈری اسکول کی تعلیم مکمل کی اور پگوارہ میں واقع ایک کالج سے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم مکمل کی۔ انہوں نے اسی زمانے میں اردو سیکھی۔ دھرمیندر نے بالی ووڈ میں شامل ہونے کی تحریک معروف اداکار دلیپ کمار سے حاصل کی، جنہیں وہ بچپن سے ہی اپنا آئیڈیل مانتے تھے۔
انہوں نے فلم ’دل بھی تیرا ہم بھی تیرے‘ فلم سے اپنی فلمی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے اپنے زمانے میں مشہور فلموں شعلے، ان پڑھ، آئی ملن کی بیلہ، حقیقت، کاجل، ممتا، دیور، بہاریں پھر آئنگی، آئے دن بہار کے، میرے ہمدم میرے دوست میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے بعد میں ستیا کام، انوپما، چپکے چپکے، پھول اور پتھر جیسی فلموں میں اداکاری کے جوہر دیکھائے۔ دھرمیندراپنی فلموں، لاثانی نغمات اور کہانی کیلئے تو یاد رکھیں جائیں گے ہی، ساتھ ہی وہ فلموں میں اردو زبان کے استعمال، تلفظ اور ادائیگی کیلئے بھی یاد کئے جائیں گے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔