فلم ریویو— زبردست اداکاری اور اچھی کہانی کا انضمام ہے ’سنجو‘

فلم میں صرف رنبیر کپور نے ہی محنت نہیں کی ہے بلکہ فلم کا ہر کردار کافی سلیقے سے تراشا گیا ہے اور ہر اداکار نے بہترین کام کیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

پرگتی سکسینہ

راج کمار ہیرانی کی فلم ’سنجو‘ کا بے صبری سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ ویسے تو کہا جا رہا تھا کہ یہ فلم اداکار سنجے دَت کی زندگی پر مبنی یعنی ’بایو پِک‘ ہے، لیکن اس فلم میں ہدایت کار نے خیالی کرداروں کا بھی بھرپور استعمال کیا ہے۔ فلم کی کہانی وہ نہیں ہے جو آپ سننا چاہتے ہیں۔ مثلاً سنجے دَت کا بچپن، ان کی پہلی شادی اور تمام فلمی ہیروئنوں سے رومانس وغیرہ، بلکہ کہانی وہ ہے جو ہدایت کار آپ کو سنانا چاہتا ہے اور راج کمار ہیرانی اس میں بہترین ثابت ہوئے ہیں۔

یہ کہانی سنجے دَت کی کہانی سے کہیں زیادہ ایک نوجوان کی کہانی ہے جو لاڈ پیار میں پرورش پاتا ہے۔ لیکن جب اس کا سامنا زندگی کے عام چیلنجز سے ہوتا ہے تو وہ گھبرا کر نشے اور ڈرس کی گود میں چلا جاتا ہے۔ اپنے شہرت یافتہ اور معروف والدین کی وجہ سے اس سے بہت سی امیدیں بھی ہیں جنھیں پورا کرنے میں وہ خود کو قابل نہیں مانتا ہے اور اس احساس کمتری کے سبب وہ نہ صرف نشے کا عادی بن جاتا ہے بلکہ اپنے قریبی رشتوں کے تئیں لاپروا اور غیر ذمہ دار بھی ہو جاتا ہے۔ وہ اتنا لاپروا ہو جاتا ہے کہ انھیں تکلیف دینا شروع کر دیتا ہے اور خود کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

فلم میں صرف رنبیر کپور نے ہی محنت نہیں کی ہے (حالانکہ ان کی محنت قابل تعریف ہے۔ کچھ مناظر میں تو سنجے دت اور رنبیر کپور میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے) بلکہ فلم کا ہر کردار کافی سلیقے سے تراشا گیا ہے اور ہر اداکار نے بہترین کام کیا ہے۔ خصوصاً وکی کوشل نے سنجے دَت کے غیر فلمی دوست کے کردار کو بخوبی نبھایا ہے۔ چند منٹوں کے لیے ایک سینئر سیاسی لیڈر کا کردار نبھانے والے انجن شریواستو نے بھی کمال کی اداکاری کی ہے۔

راج کمار ہیرانی اپنی فلموں میں اکثر فلم کی ظاہری کہانی سے آگے جا کر ناظرین کے دل کو چھو لیتے ہیں اور یہ فلم بھی بطور ہدایت کار ان کی اس خاصیت کو منظر عام پر لاتی ہے۔ ظاہری طور پر یہ فلم سنجے دَت کے بارے میں ہے لیکن ہر عام باپ بیٹے کے رشتے کو خوبصورتی سے پردے پر اتارتی ہے۔ سنیل دَت کی موت پر سنجے دَت کی تقریر جو وہ اپنے والد کو سنانا چاہتا تھا لیکن نہیں سنا پایا، دل کو چھو جانے والا ہے۔

یہاں پر اس بات کا بھی تذکرہ ہونا چاہیے کہ ایک حقیقی شخص کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہدایت کار کہیں بھی نہ تو بہت لاؤ ہوا ہے اور نہ ہی میلو ڈرامیٹک۔ ایسا لگتا ہے کہ ہندی فلموں کے ہدایت کاروں کو اب احساس ہونے لگا ہے کہ اصل زندگی خیالی کہانیوں سے کہیں زیادہ ڈرامائی ہوتی ہیں، اور اگر اسے کچھ تعمیری انداز کے ساتھ پیش کیا جائے تو وہ ناظرین کو متاثر کر سکتی ہے۔ ’راضی‘ اس کی تازہ مثال ہے اور ’سنجو‘ بھی۔ فلم کی رفتار آخر میں کچھ کم ضرور ہو جاتی ہے اور میڈیا کی لمبی چوڑی تنقید بھی غیر ضروری معلوم ہوتی ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ میڈیا کچھ حد تک منفی یا غلط رپورٹنگ کی قصوروار ہے۔ اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ فلمی ہستیوں پر رپورٹنگ کرتے وقت خبر کو مسالہ دار بنانے پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ لیکن اس کی اس حد تک تنقید زیادتی ہے۔

بہر حال، ان سب کے باوجود جب کریڈٹ اسکور کے دوران سنجے دَت پردے پر آتے ہیں تو واقعی مزہ آ جاتا ہے اور آپ یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ سنجے دَت آج بھی کمال کے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔