اشوک کمار: چھ دہائیوں تک سنیما پر راج کرنے والا فن کار
اشوک کمار نے 1943 کی فلم ’قسمت‘ میں اینٹی ہیرو کا کردار ادا کر کے روایتی ہیرو کی شبیہ توڑی۔ انہوں نے اداکاری کے نئے معیار قائم کیے اور دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سمیت کئی اعزازات حاصل کیے

ہندوستانی سنیما کی تاریخ میں اشوک کمار کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی اداکاری کے ذریعے نہ صرف ناظرین کے دلوں میں جگہ بنائی، بلکہ فلموں میں کرداروں کی پیش کش کے روایتی انداز کو بھی بدل دیا۔ ان کی اداکاری کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے خود کو کسی ایک قسم کے کردار تک محدود نہیں رکھا۔ رومانوی ہیرو سے لے کر منفی کرداروں اور مزاحیہ اداکاری تک، انہوں نے ہر روپ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ 1943 میں ریلیز ہونے والی فلم ’قسمت‘ میں اینٹی ہیرو کا کردار ادا کرکے انہوں نے اس دور میں ایک نئی مثال قائم کی، جب فلموں کے مرکزی کردار عموماً نیکی اور مثالی شخصیت کی علامت ہوا کرتے تھے۔
اشوک کمار کی پیدائش 13 اکتوبر 1911 کو بہار کے بھاگلپور شہر میں ایک متوسط بنگالی خاندان میں ہوئی۔ ان کا اصل نام کمود کمار گنگولی تھا۔ فلمی دنیا میں وہ اشوک کمار کے نام سے مشہور ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کھنڈوا میں حاصل کی اور بعد میں الہ آباد یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ اسی زمانے میں ان کی دوستی ششدھر مکھرجی سے ہوئی، جو آگے چل کر ان کے بہنوئی بھی بنے۔
اشوک کمار نے اپنے فلمی سفر کا آغاز اداکار کی حیثیت سے نہیں، بلکہ فلم سازی کے تکنیکی شعبے سے کیا۔ 1934 میں وہ نیو تھیٹرز سے لیبارٹری اسسٹنٹ کی حیثیت سے وابستہ ہوئے۔ بعد میں ان کے بہنوئی ششدھر مکھرجی نے انہیں بامبے ٹاکیز میں کام کرنے کا موقع فراہم کیا۔ یہیں سے ان کی زندگی نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔
1936 میں بامبے ٹاکیز کی فلم ’جیون نیا‘ کی تیاری کے دوران ایک اہم اداکار بیمار پڑ گیا۔ ایسے میں اسٹوڈیو کے مالک ہمانشو رائے کی نظر اشوک کمار پر پڑی اور انہیں فلم میں اداکاری کرنے کا موقع مل گیا۔ اس طرح ایک اتفاق نے انہیں اداکاری کی دنیا میں پہنچا دیا۔ اس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ 1939 میں ریلیز ہونے والی فلموں ’کنگن‘، ’بندھن‘ اور ’جھولا‘ میں لیلا چٹنس کے ساتھ ان کی اداکاری کو ناظرین نے پسند کیا اور وہ مقبولیت کی سیڑھیاں چڑھنے لگے۔
اشوک کمار کے فلمی سفر میں 1943 کی فلم ’قسمت‘ کو ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ بامبے ٹاکیز کے بینر تلے بننے والی اس فلم میں انہوں نے ایسا مرکزی کردار ادا کیا جو روایتی ہیرو کی شبیہ سے مختلف تھا۔ اس وقت فلموں میں ہیرو کو عموماً نیک، بہادر اور مثالی کردار کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، لیکن اشوک کمار نے ایک ایسے کردار کو نبھایا جس میں منفی پہلو بھی موجود تھے۔ اس طرح انہوں نے ناظرین کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ کسی فلم کا مرکزی کردار لازماً روایتی معنوں میں اچھا انسان ہی نہیں ہونا چاہیے۔
’قسمت‘ کو زبردست کامیابی ملی۔ اس فلم نے کلکتہ کے چترا تھیٹر میں مسلسل 196 ہفتوں تک نمائش کا ریکارڈ قائم کیا۔ اس کامیابی نے اشوک کمار کو غیر معمولی شہرت عطا کی اور انہیں فلمی دنیا میں ایک منفرد مقام دلایا۔
1943 میں ہمانشو رائے کے انتقال کے بعد اشوک کمار نے بامبے ٹاکیز چھوڑ کر فلمستان اسٹوڈیو سے وابستگی اختیار کر لی۔ بعد میں وہ دوبارہ بامبے ٹاکیز سے وابستہ ہوئے اور پروڈکشن چیف کی حیثیت سے ’مشعل‘ اور ’مجبور‘ جیسی فلموں کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔ پچاس کی دہائی میں انہوں نے اپنی پروڈکشن کمپنی قائم کی۔ ان کے بینر تلے بننے والی فلم ’سماج‘ باکس آفس پر ناکام رہی، جب کہ ’پرینیتا‘ ان کی اہم فلموں میں شمار ہوئی۔ تاہم، مالی نقصانات کے باعث انہیں اپنی کمپنی بند کرنا پڑی۔
یہ بھی پڑھیں : دلیپ کمار: ہندی سینما کے لازوال فنکار
اشوک کمار نے اداکاری میں تنوع کو ہمیشہ اہمیت دی۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ناظرین انہیں صرف ایک ہی طرح کے کردار میں دیکھیں۔ 1958 کی مزاحیہ فلم ’چلتی کا نام گاڑی‘ میں ان کی اداکاری نے ان کے فن کا ایک نیا پہلو نمایاں کیا۔ اس فلم میں انہوں نے ثابت کیا کہ وہ سنجیدہ کرداروں کے ساتھ مزاحیہ اداکاری میں بھی یکساں مہارت رکھتے ہیں۔ 1967 میں ریلیز ہونے والی فلم ’جیول تھیف‘ میں ان کے منفی کردار کو بھی خوب پسند کیا گیا۔
1963 میں بمل رائے کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’بندنی‘ ان کے کیریئر کی ایک اور اہم فلم ثابت ہوئی۔ ابتدائی اختلافات کے باوجود اس فلم میں ان کی اداکاری نے ناظرین کو متاثر کیا۔ 1968 کی فلم ’آشیرواد‘ میں ان کی غیر معمولی کارکردگی کے لیے انہیں بہترین اداکار کا قومی فلم ایوارڈ دیا گیا۔ اسی فلم کا نغمہ ’ریل گاڑی‘ بچوں میں بے حد مقبول ہوا۔
یہ بھی پڑھیں : وقت سے آگے کا فنکار: گرو دت کی فلمی دنیا اور ادھوری کہانی
بڑے پردے کے علاوہ اشوک کمار نے ٹیلی ویژن پر بھی اپنی شناخت قائم کی۔ 1984 میں دوردرشن کے مقبول سیریل ’ہم لوگ‘ میں ان کی موجودگی نے انہیں گھر گھر مشہور کر دیا۔ انہوں نے ’بھیم بھوانی‘، ’بہادر شاہ ظفر‘ اور ’اجالے کی اور‘ جیسے سیریلز میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ انہیں دو مرتبہ فلم فیئر کے بہترین اداکار کے ایوارڈ سے نوازا گیا، جب کہ 1988 میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔
(ان پٹ یو این آئی)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
