یومِ پیدائش پر خاص: اَپنے پہلے ایکٹنگ گرو فرینک ٹھاکر کو آج بھی یاد کرتے ہیں امیتابھ بچن

11 اکتوبر 1942 کو پریاگ راج میں پیدا ہوئے امیتابھ بچن اپنے 77ویں یوم پیدائش کو کسی دھوم دھام سے نہیں منا رہے۔ اس موقع پر انھوں نے اپنے شیدائیوں سے بہتر صحت کے لیے دعا کرنے کی گزارش کی۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بالی ووڈ شہنشاہ یعنی امیتابھ بچن آج 77ویں سال میں داخل ہو گئے۔ اس موقع پر پوری دنیا میں اینگری ینگ مین کے لقب سے مشہور امیتابھ بچن کے شیدائی خوب جشن منا رہے ہیں۔ اس موقع پر ان کے پہلے ایکٹنگ گرو فرینک ٹھاکر داس کو یاد نہ کیا جائے، ایسا ممکن نہیں۔ دہلی یونیورسٹی کے کروڑی مل کالج کے ڈرامہ ٹیچر فرینک ٹھاکر داس نے اگر شرمیلے امیتابھ بچن کو کالج کی ڈرامہ سوسائٹی میں ہونے والی تقاریب میں حصہ لینے کے لیے نہیں کہا ہوتا تو شاید فلم شائقین انھیں کبھی پردے پر نہیں دیکھ پاتے۔

کے ایم کالج کے بی ایس سی طالب علم امیتابھ بچن کی زندگی فرینک ٹھاکر داس کے ساتھ ہوئی ملاقات نے پوری طرح بدل دی۔ امیتابھ بچن نے کے ایم کالج میں سال 1959 سے 1962 تک تعلیم حاصل کی تھی۔ ہر وقت کام میں لگے رہنے والے پنجابی عیسائی فرینک ٹھاکر داس کے ایم کالج میں کئی اہم ذمہ داری سنبھال رہے تھے۔ ایک بہترین انگریزی ٹیچر ہونے کے ساتھ ہی انھیں کالج ڈرامہ سوسائٹی میں بھی اہم مقام حاصل تھا۔ سال 2017 میں دیے گئے ایک انٹرویو میں امیتابھ بچن نے انھیں یاد کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’’مجھے آج بھی یاد ہے کہ پروفیسر فرینک ٹھاکر داس نے مجھ سے کالج کے ڈرامہ سوسائٹی کے ذریعہ منعقد ڈراموں میں بلاتاخیر حصہ لینے کے لیے کہا تھا۔‘‘ امیتابھ بچن نے مزید بتایا کہ ’’پہلی ملاقات میں ہی وہ میرے استاد بن گئے تھے۔ ان کی وجہ سے ہی میں نے تھیٹر کی دنیا کی اے بی سی، جیسے اسٹیج پر کس طرح بولنا ہوتا ہے اور اداکاری کے دوران کرداروں کا انداز کیا ہوتا ہے، یہ سب کچھ سیکھا تھا۔ وہ شاندار اداکار اور ہدایت کار تھے۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

امیتابھ بچن نے پھر جب انگریزی اور ہندی ڈراموں میں پورے جوش اور خود سپردگی کے ساتھ حصہ لینا شروع کیا تو اس کے بعد پھر انھوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ کے ایم کالج ڈرامہ سوسائٹی صرف کالج اور دہلی یونیورسٹی میں ہی نہیں، بلکہ دہلی کے مختلف حصوں میں اپنے ڈراموں کا اسٹیج کرتی تھی اور امیتابھ اس کے اٹوٹ حصے تھے۔

امیتابھ بچن ان کے پہلے ایسے طالب علم تھے جنھوں نے بطور اداکار کامیابی کی یادگار تاریخ رقم کی۔ اس کے بعد فرینک ٹھاکر داس نے شکتی کپور، ستیش کوشک اور کلبھوشن کھربندا جیسے بالی ووڈ کی کئی ہستیوں کے کیریر کو سنوارا۔ وہ سبھی ان کے احسان مند ہیں کیونکہ انھوں نے سبھی کو سیکھنے کے مناسب مواقع دیے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

فلم ’مسٹر انڈیا‘ میں کیلنڈر اور فلم ’دیوانہ مستانہ‘ میں پپو پیجر کا کردار نبھا کر شہرت حاصل کرنے والے معروف ہدایت کار ستیش کوشک نے ان کے بارے میں کہا کہ ’’میں نے 70 کی دہائی میں جب کے ایم کالج میں داخلہ لیا تو وہ وہاں تھے اور بااثر انداز سے ان کی موجودگی محسوس ہوتی تھی۔ مجھے اس بات کی جانکاری تھی کہ فرینک سر نے امیتابھ بچن کو تربیت دی تھی۔ حالانکہ وہ ان لوگوں میں سے نہیں تھے جو کسی اور کی شہرت کا سہرا خود لیتے تھے۔ ان سے ہم جب بھی امیتابھ بچن کے بارے میں باتیں کرتے تھے، تو وہ بس اتنا کہتے تھے ’’ان میں سیکھنے کی کافی لگن تھی اور وہ ہمیشہ تجربہ کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ انھیں ایک نہ ایک دن اونچائیوں کو چھونا ہی تھا۔ حالانکہ انھوں نے اس بات کا کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ انھوں نے ہی امیتابھ کو راہ دکھائی تھی۔‘‘

اپنے کالج کو چھوڑنے کے اتنے سال بعد بھی امیتابھ فرینک ٹھاکر داس کے شکرگزار ہیں۔ فرینک نے مرانڈا ہاؤس کالج کے ایک ڈرامہ میں حصہ لینے کے لیے ان کا نام دیا تھا۔ دو سال پہلے کالج کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے امیتابھ نے مسکراتے ہوئے کہا تھا ’’میں یہ کیسے بھول سکتا ہوں کہ انھوں نے مرانڈا ہاؤس میں ڈرامہ میں حصہ لینے کے لیے میرا نام بھیجا تھا۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

اپنی 77ویں سالگرہ کو امیتابھ کسی دھوم دھام سے نہیں منا رہے۔ اپنے شیدائیوں سے اپنی بہتر صحت کے لیے دعا کرنے کی گزارش کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’اس میں جشن منانے جیسا کیا ہے؟ یہ بھی ایک عام دن کی طرح ہے۔ میں شکرگزار ہوں کہ میں اب بھی کام کر رہا ہوں اور میرا جسم میری روح کے ساتھ تال میل بٹھائے رکھنے میں کامیاب ہے۔‘‘

اپنے پرانے دنوں کو یاد کرتے ہوئے امیتابھ بچن کہتے ہیں کہ ان کے والد اور مرحوم شاعر ہری ونش رائے بچن ان کی پیدائش کے دن پر ان کے لیے ایک نظم لکھتے تھے اور انھیں سناتے تھے۔ امیتابھ بچن نے مزید کہا کہ ’’یہ ہماری فیملی کی ایک روایت تھی۔ لیکن اس روایت کو نئی تعریف اس وقت ملی جب 1984 میں میرے ساتھ اندوہناک حادثہ ہوا۔ اس حادثہ کے بعد میرے والد نے میرے یوم پیدائش پر ایک نظم سنائی تھی۔ وہ لمحہ میرے لیے ایک نئی زندگی پانے جیسا تھا۔ نظم پڑھنے کے دوران میرے والد ٹوٹ سے گئے تھے۔ ایسا پہلی بار تھا جب میں نے انھیں اس طرح ٹوٹتے ہوئے دیکھا تھا۔‘‘

Published: 11 Oct 2019, 11:53 AM
next