دادا صاحب پھالکے ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد امیتابھ بچن نے کہا ”کچھ کام باقی ہے“

امیتابھ بچن نے مزاحیہ لہجے میں کہا کہ ”جب اس ایوارڈ کا اعلان ہوا تو، میرے ذہن میں ایک شبہ پیدا ہوا کہ شاید یہ میرے لئے کوئی اشارہ ہے کہ بھائی صاحب ، آپ نے بہت کام کرلیا ہے، اب گھر بیٹھ کر آرام کیجئے۔“

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

صدر رام ناتھ کووند نے فلمی دنیا میں نمایاں کردار ادا کرنے پر نامور اداکار امیتابھ بچن کو اتوار کی شام دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا۔ رام ناتھ کووند نے راشٹرپتی بھون میں منعقدہ ایک تقریب میں انھیں یہ ایوارڈ پیش کیا۔ اس موقع پر امیتابھ بچن نے مزاحیہ لہجے میں کہا کہ "جب اس ایوارڈ کا اعلان کیا گیا تو، میرے ذہن میں ایک شک پیدا ہوا کہ آیا میرے لئے کوئی اشارہ ہے کہ بھائی صاحب ، آپ نے بہت کام کرلیا ہے ، اب گھر بیٹھ کر آرام کیجئے۔" لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ "ابھی بھی کچھ کام باقی ہے، جو مجھے مکمل کرنا ہے۔"

واضح رہے کہ دادا صاحب پھالکے ایوارڈ کی شروعات ہندوستانی سنیما کی عظیم شخصیت، دھندی راج گووند پھالکے کی یاد میں 1969 میں ہوئی تھی۔ حکومت ان لوگوں کا اعزاز دیتی ہے جنہوں نے فلمی دنیا اور اس کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس ایوارڈ کے تحت ایک سنہری کمبل اور 10 لاکھ روپے کی رقم فراہم کی جاتی ہے۔

جہاں تک امیتابھ بچن کا سوال ہے، ان کی پہلی فلم 1969 میں ’سات ہندوستانی‘ آئی تھی۔ امیتابھ کو اصل شہرت پرکاش مہرا کی 1973 میں آئی فلم 'زنجیر' سے ملی۔ اس کے بعد انھوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اسی فلم سے امیتابھ بچن نے اینگری ینگ مین کی اپنی شبیہ قائم کی تھی۔ انہیں اگنی پتھ ، بلیک ، پا اور پیکو فلموں کے لیے چار قومی ایوارڈز بھی مل چکے ہیں۔ امیتابھ بچن کو2015 میں ملک کا دوسرا اعلی شہری اعزاز پدم وبھوشن سے بھی نوازا گیا ہے۔