سوشانت سنگھ کی موت کے بعد ہوئی ایف آئی آر میں 8 فلمی ہستیوں کے نام، ایکتا کپور چراغ پا

ایکتا کپور نے سوشانت کی موت کے بعد درج ایف آئی آر میں اپنا نام شامل ہونے پر حیرانی ظاہر کی ہے اور ناراضگی میں سوشل میڈیا پر لکھا کہ ”سوشی کو کاسٹ نہ کرنے کو لے کر میرے خلاف کیس کرنے کے لیے شکریہ۔“

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بالی ووڈ اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کے انتقال کے بعد بالی ووڈ میں ایک ہنگامہ سا برپا ہو گیا ہے۔ کئی فلمی ہستیاں بالی ووڈ میں بھائی بھتیجہ واد کو لے کر سوال اٹھا رہے ہیں سوشانت کی خودکشی کے لیے کچھ بڑے لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ اس درمیان مظفر پور کی عدالت میں سوشانت سنگھ معاملہ میں بالی ووڈ کی 8 معروف ہستیوں کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں سلمان خان، کرن جوہر، آدتیہ چوپڑا، ساجد ناڈیاڈوالا اور سنجے لیلا بھنسالی جیسی شخصیتوں کے ساتھ ساتھ ایکتا کپور کا بھی نام شامل ہے۔ ایف آئی آر میں اپنا نام دیکھ کر ایکتا کپور کافی ناراض ہیں اور اس کا اظہار انھوں نے سوشل میڈیا پر کیے گئے ایک پوسٹ میں کیا ہے۔

ایکتا کپور نے سوشانت سنگھ کی موت کے بعد درج ایف آئی آر میں اپنا نام شامل ہونے پر حیرانی ظاہر کی ہے۔ انھوں نے انسٹاگرام پر کیے گئے ایک طویل پوسٹ میں لکھا ہے کہ "سوشی (سوشانت سنگھ راجپوت) کو کاسٹ نہ کرنے کو لے کر میرے خلاف کیس کرنے کے لیے شکریہ۔ وہ بھی تب جب کہ میں نے ہی انھیں لانچ کیا تھا۔ میں بتا نہیں سکتی کہ ایسی گھماؤدار اور پیچیدہ تھیوری کو دیکھ کر میں کتنی افسردہ ہوں۔ پلیز سوشانت کے دوستوں اور گھر والوں کو سکون کے ساتھ ان کے جانے کا دکھ منانے دو۔ سچ جلد باہر آ جائے گا۔"

بالی ووڈ کے معروف ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی نے بھی ایف آئی آر میں اپنا نام دیکھ کر حیرانی ظاہر کی ہے۔ انھوں نے ایک ہندی نیوز پورٹل سے بات چیت کے دوران کہا کہ ایک-دو نہیں بلکہ چار فلموں کا آفر سوشانت سنگھ کو دیا گیا تھا، اور ایسی صورت میں ان پر یہ الزام کیسے لگایا جا سکتا ہے کہ بائیکاٹ کیا گیا۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ کئی فلمی ہستیوں نے اس طرح کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کچھ اہم بینرس کے ذریعہ بائیکاٹ کیے جانے سے سوشانت سنگھ ڈپریشن کے شکار ہو گئے تھے اور اسی لیے انھوں نے خودکشی جیسا قدم اٹھایا۔

واضح رہے کہ 8 مشہور بالی ووڈ ہستیوں پر کیس وکیل سدھیر کمار اوجھا نے کیا ہے اور انھوں نے تعزیرات ہند کی دفعہ 306، 109، 504 اور 506 کے تحت 8 فلمی ہستیوں کو سوشانت سنگھ کی خودکشی کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ سوشانت کو تقریباً 7 فلموں سے ہٹا دیا گیا تھا۔ ان کی کچھ مزید فلمیں ریلیز نہیں ہوئی تھیں۔ سوشانت کے آس پاس ایسے حالات پیدا کیے گئے کہ وہ خودکشی جیسا قدم اٹھانے کے لیے مجبور ہوئے۔ سدھیر اوجھا کا کہنا ہے کہ سوشانت بہار کے رہنے والے تھے اور اپنی صلاحیت کی بدولت انڈسٹری میں شناخت بنائی تھی۔ اس لیے سبھی ملزمین نے سوشانت کے خلاف سازش رچ کر انھیں فلموں سے محروم کرنے کی کوشش کی۔