چینی باشندوں کی سعودی عرب کی سیاحت میں دلچسپی کیوں؟

چینی سیاحوں کو سعودی عرب کی طرف راغب کرنے کے لیے سعودی عرب میں چینی زبان سیکھنے کا رحجان زور پکڑ رہا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

سعودی وزارت خارجہ نے بدھ 30 اکتوبر تک 77000 سے زیادہ سیاحتی ویزا جاری کرنے کی تصدیق کی ہے۔ سعودی عرب کے سیاحتی ویزے حاصل کرنے والوں میں چین پہلے نمبر پر ہے۔ حالیہ مہینوں کے دوران سعودی عرب کے سیاحتی ویزوں کے حصول میں چین سر فہرست رہا۔ تقریباً 18 ہزار چینی سیاحوں نے سعودی عرب کے سیاحتی ویزے حاصل کیے۔ اس کے بعد برطانیہ کے 17 ہزار شہریوں نے سیاحتی ویزے حاصل کئے۔ چین اور برطانیہ اکتوبر میں سعودی عرب کے سیاحتی ویزے حاصل کرنے والے کل سیاحوں کا 46 فی صد ہیں۔

سعودی وزارت خارجہ کے مطابق 8926 سیاحوں نے سعودی عرب کی سیاحت کے لیے ویزے لیے۔ اس کے علاوہ ملائیشیا، کینیڈا، قزقستان، جرمنی اور آسٹریلیا سے بھی بڑی تعداد میں لوگ سعودی عرب کی سیر کے لیے آئے۔

سعودی عرب نے اپنی تاریخ میں پہلی بار سیاحتی ویزا جاری کرنے کے 33 دن بعد یہ اعدادوشمار جاری کیے ہیں۔ ویزا میں 49 ممالک کے شہری شامل ہیں جن کو سعودی عرب میں سیاحت کے لیے داخل ہونے کے لیے مفت ویزے جاری کرنے کا اعلان کیا گیا۔ ان ملکوں میں یورپ، آسٹریا، بیلجیم، چیک جمہوریہ، ڈنمارک، ایسٹونیا، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، یونان، ہنگری، آئس لینڈ، اٹلی، لٹویا، لیچینسٹین، لیتھوانیا، پولینڈ، پرتگال، سویڈن، سوئٹزرلینڈ، آئرلینڈ، موناکو، انڈورا، روس، مونٹیرو، سان مارینو، یوکرین، انگلینڈ، بلغاریہ، رومانیہ، کروشیا، قبرص، اور ایشیا کے 7 ممالک برونائی، جاپان، سنگاپور، ملائیشیا، جنوبی کوریا، قازقستان اور چین اور شمالی امریکا میں دو ریاستوں، امریکا اور کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے شہری شامل ہیں۔

چینی سیاح سعودی عرب میں کیوں دلچسپی لیتے ہیں؟

شیجون بیجنگ میں یونیورسٹی آف فارن اسٹڈیز کے کالج آف عرب اسٹڈیز میں اسسٹنٹ پروفیسر اور سعودی عرب کے علمی تحقیق اور مواصلاتی مرکز میں آنے والے محقق ہیں۔ انہوں نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ بیت سے چینی باشندوں کے لیے سعودی عرب دور اور پراسرار ملک ہے۔ یہی وہ وجہ ہے جو چینیوں کو سعودی عرب کی سیاحت کے لیے کھینچ لاتی ہے۔ چینیوں نے سعودی عرب کے بارے میں ذرائع ابلاغ کے ذریعے بہت کچھ سن رکھا ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب اور چین کے باہمی تجارتی تعلقات بھی مضبوط اور مستحکم ہو رہے ہیں۔ چین کے لیے سعودی عرب ایک اہم تجارتی مرکز ہے۔

چین میں برسوں پہلے سعودی ویزا حاصل کرنا بہت مشکل تھا لہذا سیاحتی ویزا کے اجراء کے بعد سعودی عرب میں چینی زائرین کی بڑی تعداد کا آنا کوئی حیرت کی بات نہیں۔ چینی سیاحوں کو سعودی عرب کی طرف راغب کرنے کے لیے سعودی عرب میں چینی زبان سیکھنے کا رحجان زور پکڑ رہا ہے۔ سعودی عرب میں چینی زبان بولنے اور سمجھنے والوں کی تعداد میں اضافہ دونوں قوموں کے درمیان فاصلوں کو کم کرے اور اس طرح چینی سیاحوں کی سعودی عرب کے سیاحتی مقامات کی سیر کی دلچسپی اور بھی بڑھ جائے گی۔

چینی سیاحت کے عاشق

چینی باشندوں کو اندرون اور بیرون ملک سیاحت پسند ہے۔ سعودی عرب میں چینی شہریوں کی دلچسپی میں اضافہ اس وقت ہوا جب حالیہ برسوں میں سعودی عرب کی طرف سے اصلاحات متعارف کرائی گئیں۔ مملکت میں غیر مسلموں کی آمد کو آسان بنایا گیا۔ سمجھتا ہوں کہ غیرمسلم سیاح سعودی عرب کے ریاض اور جدہ جیسے بڑے شہروں سے اپنا سفر شروع کریں گے اور پھر ایک سال قبل مشرقی صوبے کے الاحسا جیسے دیگر سیاحتی مقامات کا رخ کریں گے جب کہ مسلمان کی زیادہ توجہ مکہ اور مدینہ اور ان کے آس پاس کے علاقوں کی سیر میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔