عرب ممالک

کیا بلند شہر کا تبلیغی اجتماع شر پسند عناصر کے نشانے پر تھا؟

بلند شہر میں کل جو کچھ ہوا اس نے کئی بڑے سوال کھڑے کر دیئے ہیں لیکن سبودھ کمار کی دانشمندی کی وجہ سے بلند شہر ایک بڑے فساد سے بچ گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

آس محمد کیف

بلند شہر میں کل پیر یعنی 4 دسمبر کو تبلیغی جماعت کے سہ روزہ تاریخی اجتماع کا آخری دن تھا، اس دن لاکھوں مسلمانوں کی واپسی ہونی تھی۔ پیر کی صبح 9 بجے سیانہ کوتوالی کے انسپکٹر سبودھ کمار کے پاس ایک نزدیکی گاؤں مہاب سے سابق پردھان کا فون آتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ ایک کھیت میں گائے کی باقیات پڑی ہوئی ہیں۔ یہ گاؤں سیانہ سے 5 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ سبودھ کمار خبر ملتے ہی موقع پر پہنچے جہاں انہیں دو یا تین جانوروں کی باقیات ملیں۔ پولس نے اس کی تصدیق نہیں کی کہ یہ باقیات گائے کی ہی ہیں یا کسی اور جانور کی ہیں۔ موقع پر موجود بجرنگ دل کے کچھ کارکنان نے بتایا کہ وہ جنگل میں گھوم رہے تھے تو انہیں یہ باقیات ملیں۔ بعد میں بجرنگ دل کے ضلع کنوینر کی جانب سے درج رپورٹ میں اس کی وضاحت کی گئی ہے کہ وہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ وہاں گھوم رہے تھے۔ تقریباً 10 بجے سبودھ کمار اپنے اعلی افسران کو اس واقعہ کی اطلاع دیتے ہیں۔

بڑا سوال یہ ہے کہ بجرنگ دل کے کارکنان کھیت میں کیوں گھوم رہے تھے؟ کیا ان کو باقیات کے بارے میں پہلے ہی سے اطلاع تھی؟ کیا ان کو رات میں ہی معلوم ہوگیا تھا جس کی وجہ سے وہ صبح کھیت میں ان باقیات کو دیکھنے گئے تھے؟ اگر ان کو رات میں ہی اس بات کی اطلاع تھی تو انہوں نے اسی وقت پولس کو اطلاع کیوں نہیں دی؟ اور پھر وہاں پولس کے پہنچنے سے پہلے ہی بجرنگ دل کے کارکنان جمع کیوں تھے؟

دس بجے بجرنگ دل کے ہجوم نے باقیات کو جمع کیا اور ان کو ٹریکٹر ٹرالی میں لاد کر سیانہ کی مرکزی شاہراہ پر جام لگا دیا۔ یہ روڈ مرادآباد اور بریلی کو جاتا ہے، چونکہ یہ ایک قومی شاہراہ ہے تو اس پر ٹریفک بھی خوب ہوتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ اسی شاہراہ سے تبلیغی جماعت میں شرکت کرنے آئے لاکھوں مسلمانوں کو بھی واپس جانا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ بجرنگ دل نے جام لگانے کے لئے اس شاہراہ کو منتخب کیا، تاکہ تبلیغی اجتماع سے فارغ ہوکر مسلمان جب واپس جائیں گے تو ان کو اپنے غصہ کا نشانہ بنایا جائے۔

سبودھ کمار نے موقع پر پہنچ کر ہجوم کو سمجھانے کی بہت کوشش کی اور وہاں موجود بزرگ ان کی بات مان بھی گئے لیکن نوجوانوں نے لگ بھگ ایک گھنٹے تک وہاں جام لگائے رکھا۔ سبودھ کمارنے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے تبلیغی اجتماع سے شرکت کے بعد واپس جانے والے مسلمانوں کا راستہ بدل دیا جس کی وجہ سے بجرنگ دل کی ہنگامہ کرنے کی کوشش پر پانی پھر گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ سخت گیر انسپکٹر سبودھ پر آگ بگولہ ہو گئے۔

سبودھ کمار راستہ تبدیل کرنے کا فیصلہ بے حد دانشمندی بھرا تھا اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو بلند شہر بڑے فرقہ وارانہ فساد کی آگ میں جھلس گیا ہوتا۔ اس کے بعد سیانہ کے ایس پی شرما بھی وہاں پہنچ گئے اور انہوں نے ہجوم کو یقین دلایا کہ وہ ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔ ان معاملات کو سلجھانے میں 12 بج گئے۔

ابھی بات چیت چل ہی رہی تھی کہ نوجوان مشتعل ہو گئے اورانہوں نے چنگراؤٹھی چوکی پر پتھراؤ شروع کر دیا، گاڑیاں نذر آتش کرنی شروع کر دیں۔ نوجوانوں کا ہجوم اس قدر پرتشدد ہو اٹھا کہ پولس کو وہاں سے بھاگنا پڑا۔ گنے کے کھیتوں سے گولیوں کی گھن گرج سنائی دینے لگی۔ حالات کو سنبھالنے کی کوشش میں انسپکٹر سبودھ کی آنکھ میں گولی لگی اور وہ وہیں گاڑی سے گر گئے۔ جب سبودھ زخمی ہوکر گاڑی سے گرے تو ایک فسادی گالی دے رہا تھا، دوسرا فسادی کہہ رہا تھا کہ یہ تو ایس او ہے اور تیسرا سفید شرٹ میں پستول نما چیز لے کر بھاگتا نظر آ رہا تھا۔ خاص بات یہ ہے کہ اس وقت بھی کوئی اس کی ویڈیو بنا رہا تھا جو نیوز چینلوں پر دکھائی جارہی ہے۔ موقع پر موجود پولس والوں کا کہنا تھا کہ بھیڑ زیادہ نہیں تھی اور سمجھانے پر مان جاتی تھی لیکن پھر ہنگامہ شروع کر دیتی تھی۔ ان لوگوں کی حرکتوں سے ایسا لگتا تھا کہ ان کا واحد مقصد فساد پھیلانا تھا۔

جس طرح سے فساد پھیلا اس سے ایک پوری تصویر سامنے آتی ہے اور وہ یہ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت ہوا۔ مثلاً جیسے پہلے بجرنگ دل کے لوگوں کا کھیت میں صبح کے وقت گھومنا، اسی قومی شاہراہ کا انتخاب کرنا جہاں سے تبلیغی اجتماع میں شرکت کرنے آئے لوگوں کو وپس جانا تھا، خاص کر تبلیغی اجتماع کے آخری دن اس طرح کے ہنگامے کو انجام دینا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان شرپسند عناصر کا صرف ایک ہی مقصد تھا کہ منصوبہ بند طریقے سے فساد بھڑکایا جائے لیکن جانباز پولس افسر سبودھ کمار، جنہوں نے اخلاق قتل معاملہ میں نہ صرف ابتدائی جانچ کی تھی بلکہ وہاں کے حالات کو قابو میں رکھنے کے لئے دن رات محنت کی تھی، انہوں نے شرپسندوں کے منصوبے پر پانی پھیردیا، جس سے ایک بڑا فساد نہ ہوسکا۔ لیکن اس کی قیمت انہیں اپنی جان دے کر چکانی پڑی۔

Published: 4 Dec 2018, 12:09 PM