وقوف عرفہ: اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام کا دن

آج وقوف عرفہ ہے یعنی حج کا رکن عظیم، حجاج کرام آج میدان عرفات میں جمع ہو کر خدا وند کریم سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں گے، اس دوران جمع ہونے والے انسانوں کا جم غفیر دنیا کا سب سے بڑا اجتماع ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

سعودی عرب میں آج حج کا بنیادی رکن "وقوف عرفہ" میدان عرفات میں ادا کیا جارہا ہے۔ اس سال بھی 20 لاکھ سے زائد عازمین میدان عرفات پہنچ رہے ہیں۔ عرفات کا میدان مکہ مکرمہ کے جنوب مشرق میں جبل رحمت کے دامن میں واقع ہے۔ یہ میدان مکہ سے تقریباً 16کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ عرفات کا میدان پورا سال غیر آباد رہتا ہے لیکن وقوف عرفات کے دن یعنی 9 ذی الحجہ کو یہ میدان ایک عظیم الشان شہر کا منظر پیش کرتا ہے۔ عرفات کا میدان 9 ذی الحجہ کی صبح سے آباد ہونا شروع ہوتا ہے اور غروب آفتاب کے ساتھ ہی اس کی رونق ختم ہوجاتی ہے؛ پھر ایک سال تک غیر آباد ہو جاتا ہے۔ حجاج کرام مغرب کے وقت میدان عرفات سے مزدلفہ روانہ ہو جاتے ہیں جہاں وہ مغرب اورعشاء کی نمازیں ملا کر پڑھتے ہیں۔ مزدلفہ میں ایک رات قیام کے بعد حجاج کرام دوبارہ وادی منیٰ کے خیموں میں پہنچ جاتے ہیں اور حج کے دوسرے مناسک ادا کرتے ہیں۔

وقوف عرفات کو حج کا سب سے عظیم رکن (سب سے بڑا عمل) قرار دیا گیا ہے اگر عازمین حج باقی تمام ارکان ادا کر دیں لیکن اگر وہ مقررہ وقت کے دوران کسی بھی وجہ سے میدان عرفات کی حدود میں نہ پہنچ سکیں تو ان کا حج ادا نہیں ہوتا۔ عرفہ کا دن مغفرت اور گناہوں سے معافی کا دن ہے۔ اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام کا دن ہے۔ میدان عرفات میں حاضرین ندامت کے آنسو بہاتے ہوئے کانپتے ہاتھوں اور لرزتے ہونٹوں سے خدائے بزرگ و برتر سے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ اس میدان میں صرف ایک ہی لگن ہے، ایک ہی جذبہ ہے ایک ہی ولولہ ہے اور وہ ہے صرف اور صرف تکمیل حج۔ یہاں شرطِ اول صرف قیام ہے۔ اتنی بڑی بھیڑ میں بھی آپ اکیلے اور تنہا کھڑے ہیں۔ آپ اور اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں۔ آپ اللہ سے جو چاہیں مانگیں، کوئی پابندی نہیں۔ اس دن قدرت نے آپ کو مانگنے کا کھلا وقت دیا ہے۔ عرفات میں قیام کے دوران زیادہ سے زیادہ استغفار کرنا چاہیے۔ حجة الوداع کے موقعہ پر میدان عرفات ہی میں سرکار دو عالمﷺ نے اپنی اونٹنی پر بیٹھ کر وہ خطبہ دیا جس کے آگے تمام دنیا کے منشور بے معنی نظر آتے ہیں۔ میدان عرفات میں اس جگہ ایک سفید پتھر( بطور نشانی) لگا ہے۔ اس فصیح و بلیغ خطبے کا ایک ایک جملہ قیامت تک نسل انسانی کی رہنمائی کرتا رہے گا۔

جبل عرفات بھی میدان عرفات میں ہے۔ اس پہاڑی کو"جبل رحمت" یعنی رحمت والی پہاڑی بھی کہا جاتا ہے۔ جبل رحمت تقریباً ستر میٹر بلند ہے یہ پہاڑی گرینائٹ کے پتھروں کی ہے۔ جبل رحمت ہی وہ جگہ ہے جہاں پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد ﷺ نے حج کی ادائیگی کے بعد آخری خطبہ دیا۔

تحقیقی کتب میں اس پہاڑی کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہ السلام کو جب جنت سے نکال کر دنیا میں بھیجا گیا تو وہ ایک دوسرے سے دو سو سال تک جدا رہے۔ وہ دنیا میں پہلی بار جبل رحمت پر ہی ایک دوسرے کو ملے۔ تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ اسی پہاڑی پر دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ استغفار کی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرمایا۔ اسی نسبت سے اس پہاڑی کو جبل رحمت بھی کہا جاتا ہے۔ حج کے موقع پر عازمین حج میدان عرفات میں قیام کے دوران تسلسل سے توبہ استغفار کرتے ہوئے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ میدان عرفات میں عازمین حج جب دو سفید کپڑوں کے ٹکڑوں میں (احرام) گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے ہیں تو بعض مفسرین اس منظر کو میدان حشر میں پیش آنے والے منظر سے تشبیہ دیتے ہیں، یعنی جب لوگ میدان حشر میں اعمال کا حساب دے رہے ہوں گے تو منظر کچھ اسی طرح کا ہو گا۔

Published: 20 Aug 2018, 11:10 AM
next