نیوزی لینڈ: دہشت گردی کے متاثرین حج ادائیگی کے لئے مکہ پہنچے

وزارت حج کے سکریٹری حج وعمرہ ڈاکٹر عبداللہ الصامل نے ایک بیان میں کہا کہ دہشت گردی کے شہداء کے لواحقین کو حکومت کی میزبانی میں حج کی ادائی کا موقع فراہم کرنا ان کے دکھ کو شیئر کرنے کی کوشش ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

اس سال نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد میں دہشت گردانہ حملے ہوئے تھے جس میں ایک بڑی تعداد میں مسلمان شہید ہو گئے تھے۔ان حملوں میں دہشت گردی کا شکار ہونے والے مسلمانوں کی بڑی تعداد خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی طرف سے خصوصی حج پروگرام کے تحت فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے مکہ مکرمہ پہنچ گئے ہیں۔ نیوزی لینڈ سے آنے والے عازمین حج کے قریبی عزیز 15 مارچ 2019ء کو کرائسٹ چرچ کی مساجد میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں شہید ہو گئے تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وزارت حج کے سکریٹری حج وعمرہ ڈاکٹر عبداللہ الصامل نے ایک بیان میں کہا کہ دہشت گردی کے شہداء کے لواحقین کو حکومت کی میزبانی میں حج کی ادائی کا موقع فراہم کرنا ان کے دکھ کو شیئر کرنے کی کوشش ہے۔ اس کوشش کے نتیجے میں متاثرین کو اپنا غم دور کرنے کا موقع ملتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پہنچنے والے نیوزی لینڈ کے مسلمانوں کا استقبال کیا گیا۔ نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کے متاثرین کا سرکاری حج پر یہ پہلا قافلہ ہے۔ مزید متاثرین بھی اس قافلے میں جلد شامل ہو جائیں گے۔

ادھر سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور و دعوت ارشاد الشیخ ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ نے خصوصی حج پروگرام کے تحت مُملکت میں آنے والے تمام عازمین حج کو ہر قسم کی سہولیات فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے حج سے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ شاہ سلمان کے خصوصی حج پروگرام کے تحت آنے والے مہمانوں کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔

خیال رہے کہ رواں سال نیوزی لینڈ کی مساجد میں دہشت گرد حملے کے نتیجے میں 50 مسلمان شہید اور پچاس زخمی ہوگئے تھے۔ سعودی عرب کی حکومت نے متاثرین نیوزی لینڈ کی دل جوئی اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے متاثرین کے لواحقین کو سرکاری سطح پر حج کرانے کا اعلان کیا تھا۔

سعودی عرب میں متعین نیوزی لینڈ کے سفیر جیمز مونرو نے اپنے ملک سے آنے والے عازمین حج کا استقبال کیا اور سعودی حکومت کی طرف سے متاثرین کےساتھ اظہار یکجہتی کی کوششوں پر ریاض کا شکریہ ادا کیا۔

(بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ)