ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر پابندیاں عائد کی جایئں گی: روبیو
مارکو روبیو نے کہا کہ کوئی بھی ملک ایران کو ایسا نظام بنانے میں مدد نہیں کرے گا جس کے ذریعہ ایران پیسہ کمائے اور پھر اس رقم کو دہشت گردی کی حمایت یا جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لیے استعمال کرے۔

ایران اور امریکہ ایک دوسرے کے خلاف مسلسل جوابی کارروائی کر رہے ہیں۔ ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ان ممالک کو خبردار کیا ہے جو ایران کے ساتھ کاروبار کر رہے ہیں یا کاروبار کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ روبیو نے واضح طور پر کہا کہ کسی بھی ملک سے قطع نظر، اگر وہ ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھے گا تو ٹرمپ انتظامیہ اس کے خلاف پابندیاں عائد کرنے سے دریغ نہیں کرے گی۔
درحقیقت مارکو روبیو سے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ایس سی او اجلاس کے موقع پر ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ سوال کچھ ایسا تھا کہ وزیر اعظم مودی نے صدر پیزشکیان اور ایرانی حکام سے ملاقات کی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی قسم کے تجارتی معاہدے کی تیاری کر رہے تھے۔ پاکستان نے بھی دو ہفتے پہلے ایسا کیا تھا۔ ان ممالک کے لیے آپ کا کیا پیغام ہے؟
اس سوال کے جواب میں سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے کہا کہ "میں نہیں مانتا کہ ہندوستان اور ایران کے درمیان کوئی تجارتی معاہدہ ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر ملک اپنی خود مختار خارجہ پالیسی بناتا ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک ایرانی حکومت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، "لیکن بالآخر، یہ واضح ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بتا دیا ہے۔ کسی بھی ملک کو امریکی پابندیوں سے بچنےکی کوشش کرنی چاہیے۔ کوئی بھی ملک ایران کو ایسا نظام بنانے میں مدد نہیں کرے گا جس کے ذریعہ ایران پیسہ کمائے اور پھر اس رقم کو دہشت گردی کی حمایت یا جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش میں استعمال کرے۔ اگر کوئی ملک ایسا کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو ہمیں اس ملک پر بھی پابندیاں عائد کرنا ہوں گی۔"
درحقیقت، وزیر اعظم مودی نے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کے ساتھ دو طرفہ میٹنگ کی۔ دونوں رہنماؤں نے ہندوستان ایران تعلقات، مغربی ایشیا میں حالیہ تنازعات اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعظم مودی نے ہندوستان کے اس موقف کو دہرایا کہ تمام مسائل کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعہ حل کیا جانا چاہیے۔ پیزشکیان نے حالیہ تنازع کے دوران ہندوستان کی حمایت اور تعاون کو بھی سراہا اور نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ خطے میں امن قائم کرنے کے لیے اپنی سفارتی صلاحیتوں کا استعمال کرے۔
ایرانی صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق پیزشکیان نے کہا کہ ان کی حکومت نے شروع سے ہی امن و سلامتی کو یقینی بنانے اور مسائل کو بات چیت کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے امریکہ کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ سفارتی ذرائع استعمال کرنے کے بجائے جنگ اور عدم تحفظ کا راستہ اختیار کر رہا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
