عرب ممالک

عمان کی دو بندرگاہوں تک امریکی فوج کی رسائی حاصل

امريکا نے اسٹريٹيجک اہميت کی حامل بندرگاہوں کے حصول کے ليے عمان کے ساتھ ايک ڈيل کو حتمی شکل دے دی ہے۔ اس سے جہاں عمان کو اقتصادی فائدہ ہوگا، وہيں امريکی افواج کی خليج کے خطے ميں رسائی بہتر ہوگی۔

تصویر سوشل میڈیا

ڈی. ڈبلیو

امريکا کو اب عمان کی الدقم اور صلالہ نامی بندرگاہوں تک رسائی حاصل ہے۔ عمان ميں امريکی سفارت خانے کی طرف سے جاری کردہ ايک بيان ميں تصديق کر دی گئی ہے کہ اسٹريٹيجک اہميت کی حامل ان دونوں بندرگاہوں کے حصول کے ليے مسقط اور واشنگٹن حکومتوں کے مابين ايک ڈيل کو اتوار چوبيس مارچ کے روز حتمی شکل دے دی گئی۔ بيان کے مطابق اس پيش رفت سے دونوں ممالک کے سلامتی سے متعلق مشترکہ مقاصد کے حصول ميں مدد ملے گی۔

مسقط حکومت مشرق وسطیٰ کی سياست ميں غير جانبدار رہنا چاہتی ہے اور اس پيش رفت کو ايک اقتصادی فيصلہ قرار ديا جا رہا ہے۔ ملکی دارالحکومت سے قريب ساڑھے پانچ سو کلوميٹر جنوب کی طرف واقع شہر الدقم کبھی ماہی گيری کے ليے مشہور تھا ليکن مسقط حکومت اب وہاں ترقی کی خواہاں ہے۔ عمان کی کوشش ہے کہ تيل اور گيس کی برآمدات پر انحصار کم کيا جائے اور اقتصادی ترقی کے ليے ديگر شعبوں ميں پيداوار بڑھائی جائے۔ ايک وقت میں چين بھی الدقم ميں لگ بھگ گيارہ بلين ڈالر کی سرمايہ کاری کا خواہش مند تھا تاہم اس پر زيادہ پيش رفت نہ ہو سکی تھی۔

دوسری جانب الدقم اور صلالہ کی بندرگاہوں کے حصول کے نتيجے ميں امريکی افواج کی خليج کے خطے ميں رسائی بہتر ہو گی کيوں کہ اب امريکا کے بڑے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزر کر وہاں پہنچنے کی ضرورت نہيں پڑے گی۔

امريکا خطے ميں ايران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور بالخصوص اس کے متنازعہ ميزائل پروگرام پر تشويش کا شکار ہے۔ اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر ايک امريکی اہلکار نے بتايا کہ عمان کی سرزمين پر ان بندرگاہوں تک رسائی سے ديگر بندرگاہيں اور سڑکوں کے نيٹ ورکس امريکا کی دسترس ميں ہوں گے، جو کسی ممکنہ بحرانی صورتحال ميں امریکی افواج کے ليے مددگار ثابت ہوں گے۔