سعودی عرب اور یو اے ای میں ہر تین میں سے دو ملازم دفتری زندگی سے باہر! سروے

کورونا کی پابندیاں کم ہو رہی ہیں اور دنیا کے بہت سے حصوں میں کام کی جگہوں پر واپسی کا وقت آیا چاہتا ہے لیکن یو اے ای اور سعودی عرب میں بیشتر ملازمین دفتری زندگی کی طرف لوٹنے کو تیار نظر نہیں آتے

سعودی عرب کے ایک دفتر کی فائل تصویر / Getty Images
سعودی عرب کے ایک دفتر کی فائل تصویر / Getty Images
user

قومی آوازبیورو

الریاض: اس وقت کووِڈ-19 کی پابندیاں عالمی سطح پرکم ہورہی ہیں اوردنیا کے بہت سے حصوں میں کام کی جگہوں پر واپسی کا وقت آیاچاہتا ہے لیکن متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں بیشتر ملازمین دفتری زندگی کی طرف لوٹنے کو تیار نظرنہیں آتے ہیں۔

’لنکڈ ان مینا‘ کے زیراہتمام فیوچرآف ورک سروے میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے دونوں ممالک کے 1000 کارکنوں سے وبا کے بعد کام سے متعلق ان کے رویوں کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی ہے۔

اس میں یہ پتاچلا ہے کہ ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصے تک ریموٹ کام کرنے کے بعد کچھ آجر اور ملازمین نہ صرف یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ کس طرح کام کرتے ہیں بلکہ یہ بھی سوچ رکھتے ہیں کہ وہ کیوں کام کرتے ہیں؟

سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ 50 فی صد سے زیادہ ملازمین کام پر واپس آگئے ہیں۔ تاہم 40 فی صد سے زیادہ افراد ایک ایسے لچکدارشیڈول اور گھرسے جزوقتی کام کے موقع کی تلاش میں ہیں جس میں کام کرنے کے ایک نئے ہائبرڈ طریقے کو اجاگر کیا گیا ہو کیونکہ بہت سے لوگ اب اس کے عادی ہوچکے ہیں۔


سروے میں شامل افراد میں سے 20 فی صد ایسی نئی ملازمتوں کی تلاش میں ہیں جو ریموٹ کام کرنے کی پیش کش کرتی ہیں اورقریباً 15 فی صد نے محض اس وقت سے ملازمتوں کو خیرباد کہہ دیا ہے کہ وہ مکمل وقت کے لیے دفتر واپس جانے کو تیارنہیں تھے۔

شمالی افریقا اور مشرقِ اوسط کے خطے میں لنکڈان کی طرف سے پوچھے جانے پر، تمام ملازمین میں سے قریباً 70 فی صد نے بتایا کہ جب دفتری زندگی کی بات آتی ہے تو وہ خود کو عملی مشق سے باہرمحسوس کرتے ہیں۔35 فی صد سے زیادہ ملازمین اب کام کی جگہ پرمیل جول اور سارا دن دوسرے لوگوں کے ساتھ گزارنے کے عادی نہیں رہے تھے۔

ایک تہائی جواب دہندگان نے یہ بھی کہا کہ وَبا کی وجہ سے پیدا ہونے والے نئے معمولات کے پیش نظران سے چھوٹی چھوٹی عادات مثلاً اپنے کام کی جگہ کو صاف ستھرارکھنا اوردفتر میں مناسب لباس پہن کرجانا،اب چھوٹتی جارہی ہیں۔

لنکڈ ان مینا اور ظہورپذیرمارکیٹوں کے سربراہ علی مطرکا کہنا ہے کہ ’’یہ ملازمین اور کاروباری اداروں دونوں کے لیے اہم ایڈجسٹمنٹ کا وقت ہے۔لنکڈ ان میں ہم نے محسوس کیا کہ تنظیموں کو دفتر میں واپسی کی حکمت عملی میں بہتر مدد دینے کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ خطے میں ملازمین اپنے کام کے مستقبل کے بارے میں کیا محسوس کرتے ہیں؟‘‘


ان کے بہ قول:یہ واضح ہے کہ ملازمین کے الگ تھلگ رہنے کی توسیعی مدت کے بعد نرم مہارتوں کو نقصان اٹھانا پڑا ہے او خاص طور پر نوجوان پیشہ ور افراد کے پاس سماجی مہارتیں حاصل کرنے کا کافی وقت نہیں رہاہے۔

مطر نے کہا کہ لنکڈ ان پر ہونے والی بات چیت میں یہ رجحان دیکھاجا رہا ہے۔ہمارے اراکین ایک نسل میں کام کی جگہ کی سب سے بڑی تبدیلی کا سامنا کررہے ہیں اور یہ اہم ہے کہ ہم ملازمین کو ان کے کام کی نئی دنیا میں، صنعتوں اور مقامات پران کی آواز کی تلاش میں مدد دیں۔

پیشہ ورانہ تعلیم وتربیت پر اثر

اس نئی تحقیق میں اس حقیقت کا پتا چلا ہےکہ 16 سے 24 سال کی عمر کے قریباً 65 فی صد نوجوان پیشہ ور افراد کا خیال ہے کہ ان کی پیشہ ورانہ تعلیم اس وَبا سے شدید متاثرہوئی ہے۔

سب سے کم عمرنسل پرگھر سے کام (ڈبلیو ایف ایچ) کے اثرات پر تبصرہ کرتے ہوئے مطرنے کہا:’’ہم وقت کی ضرورت کو اجاگر کر رہے ہیں،تنظیموں کو نہ صرف دور دراز کام کرنے کی صلاحیتوں بلکہ ریموٹ لرننگ میں بھی سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے،خاص طورپرایک نوجوان ملازم کی پیشہ ورانہ کیریئر کے ابتدائی برسوں کے دوران میں پیشہ ورانہ تربیت ناگزیر ہے۔‘‘


گھر سے کام

سروے میں قریباً 40 فی صد ملازمین نے بتایا کہ وہ دفتر میں غیرضروری سفر سے بچنے کے لیے گھر سے کام کو ترجیح دیتے ہیں لیکن قریباً 80 فی صد کا خیال ہے کہ گھر سے کام کرنے سے ایک بدنامی بھی وابستہ ہے اور بہت سے ملازمین (65 فی صد) نے تصدیق کی کہ انھیں یہ تشویش لاحق ہے کہ دفتر میں نظر نہ آنے کی صورت میں ان کے کیریئر کی ترقی پر منفی اثرپڑے گا، کیونکہ ان کی باس سے بالمشافہہ ملاقات نہیں ہوتی اور ساتھیوں سے سیکھنا بھی مشکل ہوجاتاہے۔

سروے کے نتائج سے پتاچلتا ہے کہ گذشتہ ایک سال سے گھر سے کام کرنے والے ملازمین خود کو محفوظ اورخوش محسوس کرتے ہیں۔وہ اپنے خاندان کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کے قابل تھے اور یہ کام کے ایک نئے ماڈل کاچیمپئن بننے میں ایک اہم محرک تھا۔ تاہم، بہت سے لوگ خود کو الگ تھلگ، مغلوب اور جلا ہوا بھی محسوس کرتے تھے۔

مطرکا کہنا تھا کہ’’یہ نتائج ایک کثیرالجہت پالیسی کی ضرورت کی نشان دہی کرتے ہیں جس میں ملازمین کی متنوع ضروریات کو مدنظررکھا جائے۔مثال کے طورپر، کسی کمپنی میں نئے شامل ہونے والے ملازمین کواپنی تربیت کے حصے کے طور پر دفتر میں آن بورڈ کرنے اور مہارت تامہ حاصل کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جبکہ وہ ملازمین جو زیادہ عرصے سے کمپنی میں ہیں،وہ زیادہ لچک سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔‘‘

یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ ہرآجر کی ضرورت منفرد ہے، لنکڈ ان نے حال ہی میں کام کی ایک نئی لچکدار پالیسی کا اعلان کیا ہے۔یہ پالیسی دفترمیں 50 فی صد وقت گزارنے کی عالمی پالیسی سے ہٹ کرہے۔ لنکڈ ان کے نقطہ نظر میں ہائبرڈ اور ریموٹ دونوں کردار شامل ہیں کہ ہم کس طرح بہترین کام کرسکتے ہیں اس کے صحیح فارمولے کوتسلیم کرنا ہرشخص اور ٹیم کے لحاظ سے مختلف ہوگا۔

(العربیہ ڈاٹ نیٹ)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔