عرب ممالک

خاشقجی قتل معاملہ ’’باس سے کہیں کام ہوگیا ‘‘کوئی ثبوت نہیں، ترک کتاب میں انکشاف

کتاب کے مطابق خاشقجی کی لاش کو غائب کرنے کا بھی کوئی ثبوت ملا ہے اور نہ یہ پتا چلا ہے کہ آیا ان کی لاش کو تیزاب کے ذریعے ضائع کیا گیا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

’’ باس سے کہیں کام ہوگیا‘‘۔ یہ وہ الفاظ تھے جو سب سے پہلے امریکی روزنامے نیویارک ٹائمز نے شائع کیے تھے اورپھر انھیں میڈیا ذرائع سے دنیا بھر میں پھیلا دیا گیا۔اس میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے ترکی کے شہر استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں قتل کا حوالہ دیا گیا تھا اور یہاں باس کا اشارہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب کیا گیا تھا۔

اس کے بعد بعض بین الاقوامی اداروں نے عجلت میں سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات معطل کردیئے تھے ۔ دنیا کے مختلف لیڈرو ں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بیان بازی کا سلسلہ شروع ہوگیا اور امریکی کانگریس نے بھی مختصر وقت ہی کے لیے سہی ، سعودی عرب کے خلاف تعزیری اقدامات پر غور کیا تھا۔

اب ایک نئی کتاب میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ اس معاملے کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا ۔ترکی میں یہ کتاب ’’ سفارتی سفاکیت : خاشقجی قتل کے خفیہ گوشے ‘‘ کے نام شائع ہوئی ہے۔یہ ترکی کی صباح نیوز سے وابستہ صحافیوں فرحت اونلو ، عبدالرحمان سمسیک اور نضیف کرمان نے لکھی ہے۔

اس معاملے میں دلچسپی رکھنے والے حضرات کے لیے یہ کتاب ایک قابل اعتماد ذریعہ ہو سکتی ہے اور اس میں کچھ نئی تفصیل کا افشا کیا گیا ہے۔اس کتاب میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ جمال خاشقجی کا قتل حالیہ تاریخ کا ایک تاریک ترین کیس تھا لیکن نئی تحقیقات منظر عام پر آنے کے بعد اس پر چڑھی اسراریت کی پرتیں اترتی جارہی ہیں ۔اس میں مقتول کو نشانہ بنانے والے دو اور افراد کی شناخت کی گئی ہے اور آواز کی نئی ریکارڈنگز کا بھی انکشاف کیا گیا ہے۔ان سے ان دونوں افراد کی جمال خاشقجی کے قتل اور اس کے بعد کی سرگرمیوں کے بارے میں پتا چلتا ہے۔

کتاب میں خاشقجی کی زندگی کے آخری لمحات کی ساڑھے سات منٹ کی صوتی ریکارڈنگ کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ترکی نے اسی کا دنیا کے بعض ممالک اور انٹیلی جنس ایجنسیوں سے تبادلہ کیا تھا۔تاہم اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔البتہ فرانس اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایسے لیڈروں کا حوالہ دیا گیا ہے جنھوں نے اس کی تردید کی تھی۔

کتاب میں اس جھوٹے دعوے کی بھی تردید کی گئی ہے جس کو دنیا بھر میں پھیلایا گیا تھا لیکن وہ درحقیقت غلط تھا۔کتاب کے مندرجات کے مطابق اس دعوے کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ’’ مطرب نے کسی کو قونصل خانے سے فون کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ ’’باس سے کہیے ، کام ہوگیا ہے‘‘۔ مصنفین نے لکھا ہے کہ یہ ایک جھوٹا دعویٰ تھا اور اس کا کوئی بھی ثبوت نہیں ملا تھا‘‘۔

نیو یارک ٹائمز نے نومبر میں اپنی ایک اشاعت میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ مطرب نے اپنے کسی سینئر کو فون کہا تھا اور اس کو یہ اطلاع دی تھی کہ باس کو کام ہونے کے بارے میں بتا دیجیے ۔ بعض میڈیا رپورٹس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہاں باس سے مراد سعودی ولی عہد شہزادہ محمدبن سلمان ہی تھے لیکن ترک کتاب نے اس کے علاوہ بعض دوسرے دعووں کو بھی بے بنیاد قرار کر مسترد کردیا ہے۔

کتاب میں ترک حکومت کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے حساس موضوع پر بھی اظہار خیال کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ترکی اپنی سرزمین پر بین الاقوامی سفارتی مشنوں کی جاسوسی کررہا ہے اور اس طرح بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے۔

روزنامہ صباح کا کہنا ہے کہ وہ ان رپورٹس کی تردید چاہتا ہے جن میں یہ کہا گیا ہے کہ ترکی جان بوجھ کر اس عمارت سے لوگو ں کی آوازیں سن رہا تھا۔اس کا کہنا ہے کہ قونصل خانے میں ریکارڈنگ تو خود کار طریقے سے محفوظ ہورہی تھیں ۔تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ترکی کی حکومت کا سفارت کاروں کی جاسوسی پر مواخذہ کیا جانا چاہیے۔

کتاب کے مطابق استنبول اور الریاض کے درمیان فون ٹریفک کی ریکارڈنگز بھی موجود تھیں۔اس کا آغاز 28 ستمبر سے ہوا تھا۔اس میں مزید لکھا ہے کہ خاشقجی کی لاش کو غائب کرنے کا بھی کوئی ثبوت ملا ہے اور نہ یہ پتا چلا ہے کہ آیا ان کی لاش کو تیزاب کے ذریعے ختم کیا گیا تھا۔

ترک مصنفین کی کتاب میں کیے گئے انکشافات اس امر کا بھی ثبوت ہیں کہ خاشقجی کیس سے امریکا کی سعودی عرب کے بارے میں پالیس کو تبدیل کرنے اور اس کا رُخ الاخوان المسلمون اور قطر کے حق میں پھیرنے کی کوشش کی گئی تھی حالانکہ الاخوان المسلمون کو بہت سے خلیجی ممالک نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔

بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ)