ایران اور ترکی کی مداخلت سے پوری عرب دنیا کی سلامتی خطرے میں ہے: ابو الغیط

ابو الغیط نے کہا کہ ترکی اور ایران کی جانب سے عرب ممالک میں مداخلت کا مقصد ان ملکوں کو داخلی سطح‌ پر عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے اور یہ عرب قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

ابو الغیط، تصویر بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ
ابو الغیط، تصویر بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ
user

قومی آوازبیورو

عرب لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابو الغیط نے کہا ہے کہ ترکی اور ایران کی مداخلت سے پورا عرب خطہ مشکلات سے دوچار ہے۔ ان دونوں‌ ملکوں‌ کی مداخلت کے نتیجے میں‌عرب دنیا کی قومی سلامتی خطرے سے دوچار ہو چکی ہے۔ مصر کے روزنامہ 'الاخبار' کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں احمد ابو الغیط نے کہا کہ ترکی اور ایران کی طرف سے عرب خطہ جن مشکلات اور چیلنجز سے گزر رہا ہے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ ایران اور ترکی کسی ایک عرب ملک کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ان کی مداخلت پوری عرب دنیا کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عرب لیگ کے سکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ہمارے عرب ممالک کی اراضی ایران اور ترکی کے حمایت یافتہ ملیشیاوں کے تسلط میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام، عراق اور لیبیا میں ترکی کی مداخلت بے جا ہے جس کے نتیجے میں ان ملکوں میں بحران میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی اور ایران کی جانب سے عرب ممالک میں مداخلت کا مقصد ان ملکوں کو داخلی سطح‌ پر عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے اور یہ عرب قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

مسئلہ فلسطین سے متعلق ایک سوال کے جواب میں احمد ابو الغیط نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ عرب ممالک نے فلسطینی کاز کو نظرانداز کر دیا ہے۔ جو بات مجھے پریشان کر رہی ہے وہ یہ کہ فلسطین کا معاملہ عرب دنیا کے درمیان اختلافات کا باعث نہ بن جائے۔ یہ ایسا کوئی بھی سینیاریو قبول نہیں کریں گے اور اس سے بچنے کی ہرممکن کوشش کی جائے گی۔ شام کی عرب لیگ میں واپسی واپسی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ابو الغیط نے کہا کہ ابھی تک عرب لیگ کے رکن ممالک میں شام کی واپسی پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔

(بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ)

next