حرمین کے منصوبوں کا مقصد بھیڑ جیسی مشکلات کو حل کرنا ہے: چیف ڈیزائنر

حرمین شریفین کے منصوبوں کے چیف ڈیزائنر نے باور کرایا ہے کہ نئے منصوبوں کا مقصد مسائل کو حل کرنا ہے، ان میں ہجوم اور بِھیڑ، مجمع کا تحفظ اور سلامتی اور حجاج اور زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد اہم ترین ہیں

تصویر العربیہ ڈاٹ نیٹ
تصویر العربیہ ڈاٹ نیٹ
user

قومی آوازبیورو

ریاض: حرمین شریفین کے منصوبوں کے چیف ڈیزائنر ڈاکٹر عبداللہ بن جنیدب نے باور کرایا ہے کہ نئے منصوبوں کا مقصد مسائل کو حل کرنا ہے۔ ان میں ہجوم اور بِھیڑ، مجمع کا تحفظ اور سلامتی اور حجاج اور زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد اہم ترین ہیں۔

انہوں نے یہ بات العربیہ نیوز چینل کے پروگرام ’سؤال مباشر‘ (براہ راست سوال) میں پروگرام کے میزبان خالد مدخلی سے خصوصی گفتکو کرتے ہوئے کہی۔ بن جنیدب کے مطابق مطاف کی توسیع کی حکمت عملی میں بنیادی توجہ طواف کرنے والوں کی گنجائش کو بڑھانے اور انسانی جتھوں کی سلامتی یقینی بنانے پر مرکوز ہے۔

بن جنیدب نے باور کرایا کہ حرم مکی کے لیے ڈیزائن کیا جانے والا ایئرکنڈیشننگ سسٹم ،،، عمارتوں کے ایئرکنڈیشننگ سسٹم سے مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ حرم مکی میں 100 فیصد صاف ہوا ہوتی ہے۔ اس ہوا کو حرمکی میں دوبارہ تقسیم نہیں کیا جاتا بلکہ اسے دوبارہ پمپ کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر عبداللہ بن جنیدب کے مطابق توانائی کی فراہمی کے لیے ہیٹ ایکسچینج ویل کے ذریعے ٹھنڈی اور بیرونی ہوا کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد صاف اور گرم ہوا کو ٹھنڈا کرنا ہے۔ بن جنیدب نے مزید بتایا کہ حرمین کے ترقیاتی منصوبوں کو جدید ٹکنالوجی کے ساتھ انجینئروں کی ایک بڑی تعداد کی نگرانی میں مکمل کیا گیا ہے۔ ان میں زیادہ تر سعودی انجینئرز ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔