یہودیوں کا مسکن فلسطین یا سعودی گاؤں ’مرحب‘!

اس سوال نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ڈان کے مطابق یہودیوں کو فلسطین سے نکل کر سعودی عرب میں آباد ہونے کا مشورہ دینے پر عرب قلم کار، صحافی اور دیگر لوگ غادہ عویس پر پل پڑے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

مشرق وسطی میں توریت کے مطابق فلسطین یہودیوں کی سرزمین ہے یا پھرمغربی سعودی عرب کا تاریخی گاؤں ’مرحب‘ ان کا آبائی گاؤں ہوا کرتا تھا!

یہ نیا نزاع بظاہر ’الجزیرہ‘ سے وابستہ لبنانی نژاد خاتون اینکر و صحافی غادہ عویس نے کھڑا کیا ہے۔ ٹوئٹر پر حال ہی میں مغربی سعودی عرب کے تاریخی گاؤں ’مرحب‘ کی ایریل ویڈیو شیئر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ ’کیا یہودی فلسطین سے نکل کر اپنے آبائی گاؤں میں آباد ہوسکتے ہیں‘۔

عرب تاریخ کے مطابق یہ وہی مقام ہے جہاں 268 ہجری میں مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان تاریخی جنگ ’غزوہ خیبر‘ ہوئی تھی۔ یہ علاقہ مدینہ منورہ سے 150 سے 170 کلو میٹر کی دوری پر ہے اور یہ 1300 سال قبل یہودیوں کا گڑھ تھا۔ یہ خبر آن لائن ڈان نے دی ہے۔

اُن کے اس سوال نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ڈان کے مطابق یہودیوں کو فلسطین سے نکل کر سعودی عرب میں آباد ہونے کا مشورہ دینے پر عرب قلم کار، صحافی اور دیگر لوگ غادہ عویس پر پل پڑے ہیں۔

کچھ لوگوں نے تو صحافیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ان پر یہودیوں کو ایک اور مقدس شہر ’مدینہ‘ پر قبضہ کرنے کے لیے اکسانے کا الزام تک لگا دیا ہے۔

سعودی صحافی لوی الشریف نے جوابی ٹوئیٹ میں تاریخی دلیل دی ہے اور بتایا ہے کہ یہودیوں کے مقدس کتاب میں درج ہے کہ فلسطین ان کی سر زمین ہے اور جہاں تک عرب سرزمیں پر ان کی آبادکاری کا تعلق ہے تو انہیں اس وقت عربوں نے پناہ دینی شروع کی جب سلطنت روم سے انہیں بے دخل کیا تھا۔

Published: 27 Aug 2019, 9:10 PM