دنیا کو درپیش توانائی بحران ہمارا مسئلہ نہیں: اوپیک پلس

سعودی وزیر توانائی نے کہا ’’امریکی صدر بائیڈن کی تیل کی سپلائی میں اضافے کی درخواست کو سختی سے مسترد کر دیا گئا ہے کیونکہ اس وقت تیل کی رسد میں اضافہ مسئلہ نہیں بلکہ توانائی کا پیچیدہ مسئلہ درپیش ہے‘‘

تصویر العربیہ ڈاٹ نیٹ
تصویر العربیہ ڈاٹ نیٹ
user

قومی آوازبیورو

تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک اور روس کی قیادت میں غیراوپیک ممالک پر مشتمل گروپ (اوپیک پلس) نے تیل کی یومیہ پیداوار میں زیادہ اضافے کے مطالبات کو نظراندازکردیا ہے اور کہا ہے کہ قدرتی گیس اور کوئلے کی بڑھتی ہوئی قیمتیں دراصل صارفین کی معاشی پریشانیوں سبب ہیں۔

سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے جمعرات کو گروپ کے وزارتی اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ’’اس کارٹل نے امریکی صدر جو بائیڈن کی تیل کی سپلائی میں اضافے کی درخواست کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کیونکہ اس وقت تیل کی رسد میں اضافہ مسئلہ نہیں بلکہ توانائی کا پیچیدہ مسئلہ درپیش ہے اور وہ اس وقت مشکل دور سے گزر رہا ہے۔‘‘

جمعرات کو ایک مختصراجلاس کے بعد پیٹرولیم برآمد کنندگان ممالک کی تنظیم اور روس کی قیادت میں اس کے اتحادی ممالک نے دسمبر کے لیے تیل کی یومیہ پیداوار میں مزید چارلاکھ بیرل اضافے کی منظوری دی ہے۔ اس اضافے کے بارے میں بڑے صارفین کا کہنا ہے کہ کووِڈ کی وبا کے بعد کی اقتصادی بحالی کو برقرار رکھنے میں یہ بہت کم مقدار ہے، امریکا نے افراط زر کو کم کرنے میں مدد دینے کے لیے اس پیداوارمیں سے دگنا حصہ طلب کیا ہے۔


شہزادہ عبدالعزیز نے کہا کہ اگر لوگ توانائی کے بحران کی اصل وجہ پر توجہ دینے کے بارے میں سنجیدہ ہیں اور اس کوحل کرنا چاہتے ہیں تو انھیں یورپ اورایشیا کو قدرتی گیس مہیا کرنے اوراس سے متعلقہ بنیادی ڈھانچے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ انھوں نے تفصیل سے ایک چارٹ دکھایا۔اس میں موسم گرما کے بعد خام تیل کی قیمت میں دو ہندسوں کے فی صد اضافے کا موازنہ گیس اورکوئلے کی قیمت میں ہوشربا تین ہندسوں سے کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ برینٹ باقی لوگوں کے مقابلے میں کیا کر رہا ہے۔ تیل کی قیمت میں جو 28 فی صد اضافہ ہوا،وہ کچھ بھی نہیں ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ تیل کی پیداوار میں بتدریج اضافہ درست اقدام ہے۔اوپیک پلس نے امریکا کے پیداوار میں تیزی سے اضافے کے مطالبے پر زیادہ توجہ نہیں دی اور اس کے باوجود تیل کی پیداوار میں معمولی اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکا کے حوالے سے ہم ہرسطح پر بات چیت کررہے ہیں۔ پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوراس کے اتحادیوں کے اجلاس کے اختتام پرایک ٹیلی کانفرنس میں شہزادہ عبدالعزیز نے کہا کہ ہمیں اب بھی یقین ہے کہ ہم اوپیک پلس کے پلیٹ فارم سے جو کچھ کر رہے ہیں،وہ درست کام ہے۔


امریکا کووڈ-19 کے بعد اقتصادی بحالی کو برقرار رکھنے کے لیے تیل کی تیزرفتار پیداوارکا مطالبہ کر رہا ہے۔ صدر جو بائیڈن نے گذشتہ ہفتے کے روزتوانائی پیدا کرنے والے ممالک پرمشتمل گروپ جی 20 پر زور دیا تھا کہ وہ تیل کی پیداوار میں اضافہ کریں۔

شہزادہ عبدالعزیز نے کہا:’’دسمبرتک ہم تیل ذخیرہ کرنا شروع کردیں گے۔نئے سال کی پہلی سہ ماہی میں فاضل پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوچکا ہوگا کیونکہ ہم اپنی پیداوار کو بتدریج بڑھائیں گے۔‘‘

العربیہ کے ذرائع کے مطابق کووِڈ-19 کی وَبا پھیلنے کے بعد سعودی عرب کی تیل کی پیداوار پہلی مرتبہ دسمبر میں ایک کروڑ بیرل یومیہ سے تجاوز کر جائے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔