عرب ممالک

خاشفجی قتل معاملے میں سعودی عرب نے امریکی سینیٹ کے الزامات مسترد کئے

امریکی سینیٹ نے ایک قرارداد منظورکرکے سعودی عرب کے شہزادہ کو جمال خاشقجی قتل معاملے میں ذمہ دار ٹھہرایا تھا اور سعودی عرب کو روس اور چین سے ہتھیار خریدنے پر خبردار بھی کیا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

ریاض : سعودی عرب نے امریکی سینیٹ کے صحافی جمال خاشقجی کے قتل معاملے کے سعودی شہزادے محمد بن سلمان پر لگائے گئے الزامات کو پوری طرح مسترد کر دیا ہے۔

سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے پیر کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب امریکی سینیٹ کی اس سلسلے میں منظور کردہ قرارداد کو مکمل طور پر مسترد کرتاہے کیونکہ امریکی سینٹ کا یہ موقف غیر مرتب شدہ دعووں اور الزامات پر مبنی ہے اور یہ سعودی عرب کے اندرونی معاملات میں کی جانے والی جبراً مداخلت ہے ۔ یہ مداخلت علاقائی اور بین الاقوامی کردار کو کمتر بناتی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ’’ سعودی عرب اپنے اندرونی معاملات میں کسی بھی طرح کی مداخلت، رہنمائی کےاحترام کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی طرح کے الزام کو مسترد کرتا ہے‘‘۔

اس کے علاوہ سعودی عرب نے امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات برقرار رکھنے اور رشتوں میں مزید ترقی کے عزم کا بھی اظہارکیا ہے۔

نیوز ایجنسی اسپوتنک کےمطابق جمعرات کو امریکی سینیٹ نے ایک قرارداد منظورکرکے سعودی عرب کے شہزادہ کو جمال خاشقجی قتل معاملے میں ذمہ دار ٹھہرایا تھا اور سعودی عرب کو روس اور چین سے ہتھیار خریدنے پر خبردار بھی کیا تھا۔

واضح رہے کہ جمال خاشقجی واشنگٹن پوسٹ کے صحافی اور سعودی عرب کی انتظامی پالیسیوں کےتنقیدنگار تھے ۔ وہ 2اکتوبر کو اپنی شادی کے دستاویزات کے سلسلے میں ترکی کے استنبول میں واقع سعودی قونصل خانہ گئے تھے اور تبھی سے لاپتہ ہوگئے تھے۔

سعودی عرب نے جمال خاشقجی کے غائب ہونے کے دو ہفتے بعد مغربی ممالک کے دباؤ اور وضاحت طلب کرنے کے بعد یہ تسلیم کیا کہ صحافی کا سفارتخانے میں ہی قتل کردیا گیا تھا۔

سعودی عرب کے استغاثہ نے 26 اکتوبر کو قبول کیا کہ صحافی جمال خاشقجی کا قتل سابقہ منصوبہ بندی تھی اس کے باوجود سعودی عرب مسلسل یہ کہہ رہا ہے کہ صحافی کے قتل کا سعودی عرب کے شاہی خاندان سے کوئی لینادینا نہیں ہے۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ حکام نے سعودی شہزادے کے حکم کے بغیر ہی صحافی جمال خاشقجی کا قتل کردیا۔