تیل ٹھکانوں پر حملوں کے سلسلہ میں سعودی عرب کچھ نہیں جانتا: ایران

ایرانی صدر کے مشیر نے کہا ہے کہ ان کے ملک پر تیل تنصیبات حملہ کا الزام لگانے والا سعودی حملوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتا اور وہ یہ بھی نہیں سمجھ رہا کہ اس کا دفاعی نظام حملہ روکنے میں کیوں ناکام رہا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

ماسکو: ایرانی صدر کے مشیر حسام الدین عشونا نے کہا ہے کہ تیل تنصیبات پر حملہ کے سلسلہ میں ان کے ملک پر الزام لگانے والا سعودی عرب حملوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتا اور وہ یہ بھی سمجھنے میں ناکام رہا ہے کہ اس کا دفاعی نظام حملہ کو روکنے میں کیوں ناکام رہا۔

سعودی عرب نے اس حملہ کے لئے ایران كو ذمہ دار ٹھہرایا ہے جس کے جواب میں عشونا نے یہ بیان دیا ہے۔ بدھ کو سعودی عرب کی وزارت دفاع نے حملے میں ایران کے ملوث ہونے کی تصدیق کرنے کے لئے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا تھا۔ ایران نے ان الزامات کو سرے سے مسترد کردیا ہے۔

عشونا نے کل ٹوئٹ کیا ’’پریس کانفرنس یہ ثابت کرتا ہے کہ سعودی عرب کو اس بارے میں کچھ نہیں پتہ کہ میزائل اور ڈرون کہاں بنائیں گئے تھے اور انہیں کہاں سے لانچ کیاگیا تھا۔ سعودی عرب بھی وضاحت میں ناکام رہا کہ اس کا دفاعی نظام حملہ کو روکنے میں کیوں ناکام ہوگیا۔

خیال رہے ہفتہ کو سعودی عرب کی تیل کمپنی آرامكو کے پلانٹس پر ڈرون حملے ہوئے جس کے بعد کمپنی کو عبقیق اور خریس کے اپنے تیل ٹھکانوں کو بند کرنا پڑا۔ اس کی وجہ سے ملک کے تیل کی پیداوار میں اچانک بہت کمی آ گئی اور اس کا عالمی مارکیٹ پر کافی اثر پڑا ہے اور تیل کی قیمتوں میں اچھال آیا ہے۔

یمن کے حوثی باغیوں نے اس حملہ کی ذمہ داری لے لی ہے لیکن اس کے باوجود امریکہ اور سعودی عرب اس کے لئے ایران کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اپنے انتظامیہ کو اس حملہ کے بعد ایران پر اقتصادی پابندیوں میں اضافہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکہ نے اس اقدام کو ’اقتصادی دہشت گردی‘ قرار دیا ہے۔

Published: 19 Sep 2019, 12:10 PM