بیرون ملک سے لوٹنے والے شہریوں کے لیے سعودی عرب میں نیا میکانزم تیار

سعودی وزارت صحت نے مملکت میں باہر سے آنے والوں کے لیے ایک نیا میکانزم نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت بیرون ملک سے واپس آنے والوں کو مخصوص ضابطوں کے مطابق گھروں میں قرنطینہ کیا جائے گا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

الریاض: سعودی وزارت صحت نے جمعرات کو مملکت میں باہر سے آنے والوں کے لیے ایک نیا میکانزم نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ اس نئے طبی حفاظتی طریقہ کار میں بیرون ملک سے واپس آنے والوں کو مخصوص ضابطوں کے مطابق گھروں میں قرنطینہ کیا جائے گا۔

وزارت انصا کا کہنا ہے کہ شہریوں کی ہوائی اڈوں پرآمد کے فوری بعد ان کا طبی معائنہ کیا جائے گا۔ اس کے بعد انہیں دوسرے افراد کے ساتھ میل جول کے بغیر گھروں کے اندر قرنطینہ کیا جائے گا بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بیرون ملک سے آنے والے ایسے افراد جن میں بہ ظاہر کسی بیماری کی موجودگی کی کوئی علامت نہیں ہوگی انہیں بھی احتیاط کے طورپر گھروں میں قرنطینہ کرنا ہوگا۔

گھروں کے اندر قرنطینہ کرنے کی شرائط

گھر میں قرنطینہ کی ایک تعریف یہ ہےکہ اگر کوئی شخص بیرون ملک سے واپس لوٹے اور اس میں بہ ظاہر کسی متعدی بیماری کی علامت بھی نہ ہو تو اسے کچھ عرصے کے لیے گھر میں دوسرے افراد سے الگ تھلگ رہنا ہوگا۔ تاکہ کسی متعدد بیماری کی شکل میں وبا دوسرے لوگوں تک نہ پہنچے۔اگر باہر سے آنے والے افراد کوویڈ – 19 کی علامات ظاہر ہوں تو انہیں گھروں کے بجائے علاج کے لیے اسپتالوں میں منتقل کیا جائے گا۔ جن افراد کو گھروں میں قرنطینہ کیا جائے گا ان کی صحت کے بارے میں وقتا فوقتا جانچ کی جاتی رہے گی۔ گھروں میں قرنطینہ کیے گئے افراد کے بارے میں "تطمن" اور "توکلنا" جیسی اپیس سے نگرانی کی جائے گی۔

قرنطینہ گائیڈ میں گھروں میں قرنطینہ کیے گئے افراد کے خصوصی حالات، ٹیسٹوں کے مثبت نتائج اورناگزیر اور ہنگامی حالات اور قرنطینہ ختم کرنے جیسے معاملات شامل ہیں۔ شہریوں کو سختی کے ساتھ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گھروں میں قرنطینہ کے عرصے کے دوران دوسرے افراد خانہ سے کسی قسم کا میل جیل نہ رکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قرنطینہ کیے جانے سے قبل اس کے لیے جگہ کا تعین لازم ہے۔ گھر کے اندرقرنطینہ کیے گئے کسی بھی شخص کو بار بار جگہ بدلنے سے منع کیا گیا ہے۔

(العربیہ ڈاٹ نیٹ)