سعودی عرب: العُلا میں فراموش شدہ دو بادشاہتوں کے آثار قدیمہ کی کھدائی

تاریخی مقام العُلاء کے بنجر صحرا اور پہاڑوں کے درمیان ماہرین آثار قدیمہ دادان اور لحیان کی قدیم اور طویل عرصے سے فراموش شدہ بادشاہتوں کی باقیات کا سراغ لگانے کے لیے کھدائی کا کام کر رہے ہیں

سعودی عرب
سعودی عرب
user

قومی آوازبیورو

الریاض: سعودی عرب کے شمال مغرب میں واقع تاریخی مقام العُلاء کے بنجرصحرا اور پہاڑوں کے درمیان ماہرین آثار قدیمہ دادان اور لحیان کی قدیم اور طویل عرصے سے فراموش شدہ بادشاہتوں کی باقیات کا سراغ لگانے کے لیے کھدائی کاکام کر رہے ہیں۔

العُلا2019ء میں کھلنے کے بعد سے سعودی عرب کا ایک اہم سیاحتی مقام بن چکا ہے۔ یہ قدیم شہر بنیادی طور پرمدائن صالح کے شاندار شاہانہ مقبروں کے لیےجانا جاتا ہے۔یہ 2000 سال پرانا شہر ہے۔اس کونباطین (الانباط) نے پہاڑوں کی چٹانوں میں تراشا تھا۔ نباطین قبل ازاسلام عرب کے باشندے تھے۔انھوں ہی نے پڑوسی ملک اردن میں بتراء کا شہر بھی تعمیر کیا تھا۔

فرانسیسی اورسعودی ماہرین آثارقدیمہ کی ایک ٹیم اب دادانی اور لحیانی تہذیبوں سے متعلق ایک دوسرے کے بالکل قریب قریب واقع پانچ مقامات کی کھدائی کر رہی ہے۔ یہ دونوں تہذیبیں 2000 سال قبل پھلی پھولی تھیں اوراہم علاقائی طاقتیں گردانی جاتی تھیں۔

دادان آثار قدیمہ مشن کی مشترکہ ہدایت کاری کرنے والے عبدالرحمٰن آل صہیبانی نے کہا کہ یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جو فی الواقع (ان) تہذیبوں کے سربستہ راز افشا کرنے میں مدد دے گا۔


اس منصوبے کے شاہی کمیشن کے مطابق دادان کا ذکرعہد نامہ قدیم میں کیا گیا ہے اور لحیانی بادشاہت اپنے وقت کی سب سے بڑی بادشاہتوں میں سے ایک تھی جو جنوب میں مدینہ منورہ سے لے کر شمال میں جدید اردن کے علاقے عقبہ تک پھیلی ہوئی تھی۔

قریباً 900 سال پرمحیط یہ دونوں بادشاہتیں 100 عیسوی تک اہم تجارتی راستوں کو کنٹرول کرتی تھیں لیکن ان کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ماہرین آثارقدیمہ کی ٹیم ان تہذیبوں کی عبادات ،رسومات، سماجی زندگی اور معیشت کے بارے میں مزید جاننے کی امید کررہی ہے۔

فرانس کے قومی مرکزبرائے سائنسی تحقیق کے محقق جیروم روہمر نے بتایا کہ ’’ماضی میں کی گئی کھدائیاں ایک اہم پناہ گاہ کے علاقے تک محدود تھیں۔ اب ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس جگہ کے تسلسل، خاکے، اس کی مادی ثقافت، اس کی معیشت کا جامع جائزہ لیاجائے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ ایک جامع منصوبہ ہے جہاں ہم بنیادی طور پران تمام سوالات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘


ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے سعودی عرب کی معیشت اور معاشرت کو تبدیل کرنے کے لیے پیش کردہ وسیع تراصلاحات کے حامل ویژن 2030 میں العُلا کو خاص اہمیت حاصل ہوئی ہے۔حکومت مملکت میں سیاحت کے فروغ پرتوجہ مرکوزکر رہی ہے کیونکہ وہ دنیا کے سامنے کھلنے اور تیل کی آمدن سے ماورااپنی معیشت کو متنوع بنانے کے لیے کوشاں ہے۔

العُلا کو ترقی دینے کا منصوبہ دراصل غیرمسلم سیاحوں کوراغب کرنے اور قومی تشخص کو مستحکم کرنے کے لیے قبل ازاسلام کے ثقافتی ورثہ اور تاریخی آثارکو محفوظ کرنے کے اقدام کا حصہ ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔