اسرائیلی حملوں میں خاموش رہنےکے بعد اب سعودی عرب بولا ’مسئلہ فلسطین اس کی اولین ترجیح‘

سعودی عرب نے کہا ہے کہ مملکت تمام وسائل اور راستوں سے فلسطینی عوام کی حمایت میں نہ کبھی جھجکی اور نہ آئندہ کبھی جھجکے گی۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

فلسطین اور اسرائیل کے ایک دوسرے پر حملوں کے دوران مکمل خاموشی اختیار کرنےوالا عرب مک سعودی عرب تنقید کے گھیرے میں ہے۔ واضح رہے 11 دن تک اسرائیل نےغزہ پر فضائی حملہ کئے جس میں 240 سے زیادہ افراد شہید ہوئے اور متعدد عمارتیں زمیں بوس ہو گئیں ۔ شہید ہونےوالے فلسطینیوںمیں 60 سے زائد بچے بھی شامل تھے۔اب جب دونوں کےدرمیان جنگ بندی ہو گئی ہےتو سعودی عرب نے کہاہے کہ اس کے لئے مسئلہ فلسطین اولین معاملہ ہے، تھا اور رہے گا۔

سعودی عرب نے کہا ہے کہ مملکت تمام وسائل اور راستوں سے فلسطینی عوام کی حمایت میں نہ کبھی جھجکی اور نہ آئندہ کبھی جھجکے گی۔ اس کا مقصد فلسطینیوں کو ان کے قانونی حقوق واپس دلانا اور 1967ء کی حدود پر مکمل خود مختاری کی حامل ایک فلسطینی ریاست کا قیام ممکن بنانا ہے جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب ڈاکٹر عبدالعزیز الواصل نے فلسطینی اراضی میں اسرائیلی استعماری پالیسی میں تیزی آنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ بالخصوص مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی حصے میں سیکڑوں فلسطینی گھرانوں کی ان کے گھروں سے بزور طاقت بے دخلی پر افسوس کا اظہار کیا۔ اس سلسلے میں قابض اسرائیلی حکام کو نسل پرست عدالتوں کا تعاون بھی حاصل ہے۔ سعودی مندوب نے ان مواقف کا اظہار جنیوا میں منعقد اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ یہ اجلاس مقبوضہ فلسطینی اراضی میں اسرائیل کی جانب سے حالیہ خلاف ورزیوں کو زیر بحث لانے کے واسطے منعقد ہوا۔

ڈاکٹر الواصل نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو ہر ممکن طور پر اس بات کا پابند بنائیں کہ وہ اقوام متحدہ کے منشور، چوتھے جنیوا کنونشن، انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قرار داد 2334 سمیت اقوام متحدہ کی متعلقہ قرار دادوں کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ مملکت سعودی عرب اسرائیل کی جانب سے جاری خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ان خلاف ورزیوں میں مغربی کنارے میں اسرائیلی دیوار، یہودی بستیوں کی آباد کاری، فلسطینیوں کی املاک کی تباہی اور ان کی اپنے گھروں اور زمینوں سے جبری بے دخلی شامل ہے۔

الواصل نے امن کو یقینی بنانے اور مقبوضہ فلسطینی اراضی میں متاثرین کو انسانی اور طبی امداد پہنچانے کے لیے تمام تعمیری کوششوں کا خیر مقدم کیا۔(بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔