ایران میں حالات خراب: کئی شہروں میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون بند، آتش زنی اور حملے

ایران میں تقریباً دو ہفتوں سے جاری مظاہروں میں جمعرات کی شب شدت آگئی۔ کئی شہروں میں پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ ادھر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ایران میں ڈالر کے مقابلےکرنسی کی گرتی ہوئی قدر کے خلاف تقریباً دو ہفتوں سے مظاہرے جاری ہیں۔ ان مظاہروں میں جمعرات کی رات اس وقت شدت آئی جب جلاوطن ولی عہد شہزادہ رضا پہلوی نے لوگوں سے گھروں سے نکل کر اسلامی جمہوریہ کے خلاف احتجاج کرنے کی اپیل کی۔

ایران کے کم از کم پچاس شہروں میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر مظاہرے ہو رہے ہیں۔ جس کے بعد حکومت نے انٹرنیٹ اور ٹیلی فون لائنیں منقطع کر دی ہیں۔ لوگ سڑکوں پر نکل کر ایرانی حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ احتجاج کے دوران رضا پہلوی کی حمایت میں نعرے لگائے جارہے ہیں جب کہ اب تک شاہ کی حمایت میں نعرے لگانے والوں کی سزا موت تھی۔ 1979 کے اسلامی انقلاب سے عین قبل اس وقت کے ایران کے شاہ محمد رضا پہلوی امریکہ فرار ہو گئے تھے۔ ان کا بیٹا، ولی عہد شہزادہ رضا پہلوی، امریکہ میں جلاوطنی میں ہے۔


ایران میں احتجاج 28 دسمبر کو اس وقت شروع ہوا جب دارالحکومت تہران میں دکانداروں نے ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی گرتی ہوئی قدر کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کرنا شروع کیا۔ اس کے بعد ملک کے کئی شہروں میں مظاہرے پھوٹ پڑے۔

اس دوران جلاوطن ولی عہد شہزادہ رضا پہلوی نے لوگوں سے سڑکوں پر نکلنے اور اسلامی جمہوریہ کے خلاف احتجاج کرنے کی اپیل کی۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ پہلوی کی اپیل کے بعد، لوگ رات آٹھ بجے کے بعد ہی  سڑکوں پر نکل آئے۔ جمعرات کی رات کومظاہرین نےحکومت  کے خلاف جیسے نعرے لگانا شروع کر دیے۔ اس دوران شاہ کی حمایت میں "یہ آخری جنگ ہے، پہلوی واپس آئیں گے" جیسے نعرے بھی لگائے گئے۔حالات قابو سے باہر ہوتے ہی ایرانی حکومت نے انٹرنیٹ سروسز بند کر دیں اور ٹیلی فون لائنیں کاٹ دیں۔


اس دوران احتجاج مزید پرتشدد ہوتا جا رہا ہے۔ کئی مقامات سے مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پچاس شہروں میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ایران میں مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے متعدد مرتبہ  دھمکیاں دی ہیں۔ ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے پھر  کہا  ہے کہ’ انہوں نے ان سے کہا ہے کہ اگر وہ لوگوں کو مارنا شروع کر دیتے ہیں، جیسا کہ وہ فسادات کے دوران کرتے ہیں، اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ہم ان کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔‘ گزشتہ ہفتے کے اوائل میں، ٹرمپ نے یہ بھی خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے پرامن مظاہرین کو پرتشدد طریقے سے ہلاک کیا تو امریکہ اس کی مدد کو آئے گا۔

ایران میں کئی بار زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ اس طرح کے آخری بڑے پیمانے پر مظاہرے 2022 میں مہسا امینی کی موت کے بعد ہوئے تھے۔ موجودہ مظاہرے معاشی بحران کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔