حجاج کی روانگی شروع، ائیرپورٹ پر بے سر و سامانی



Courtesy photo
Courtesy photo

زیبا حیدر

جدہ: اسلام کا پانچواں ستون حج بجا لانے کے بعد حجاج ملک عبدالعزیز انٹرنیشنل ائیر پورٹ جدہ سے واپس اپنے اپنے گھروں کے سفر کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔ لیکن حج کے خصوصی ٹرمینل پر ایک عجیب بے سر و سامانی کا عالم ہے جس سے حجاج حیران وپریشان ہیں۔

روز سینکڑوں کی تعداد میں ہندوستانی حجاج جدہ ائیر پورٹ پہنچتے ہیں اور گھنٹوں ادھر سے اُدھر سر مارتے رہتے ہیں کیونکہ ان کو کوئی یہ بتانے والا نہیں کہ ان کی پرواز کس وقت جانے والی ہے اور ان کا سامان کہاں ہے اور کیسے ہوائی جہاز تک جائے گا۔

وہ ہندوستانی حجاج جو حکومت ہند کی مرکزی حج کمیٹی کے ذریعہ فریضہ حج ادا کرتے ہیں ان کی اکثریت جدہ ائیر پورٹ سے واپس ہندوستان کی فلائٹ لیتے ہیں۔ ان کو ان کی فلائٹ سے ایک دن قبل لا کر ائیر پورٹ پر چھوڑ دیا گیا جہاں ان کو کوئی یہ بھی بتانے والا نہیں تھا کہ ان کی فلائٹ کب اور کس وقت روانہ ہوگی۔

حجاج کی روانگی شروع، ائیرپورٹ پر بے سر و سامانی

ادھر کنگ عبدالعزیز ائیر پورٹ جدہ پر حاجیوں کا ایک ہجوم ہے۔ ظاہر ہے کہ ائیر پورٹ پر حاجیوں کا سامان بھی بھرا پڑا ہے۔ اس ائیر پورٹ سے روز دنیا بھر کی پروازیں ہوتی ہیں۔ اس لیے سامان کو اپنے مقام پر پہنچانے کے لیے قلیوں کی تعداد بھی بڑھا دی گئی ہے۔ اس کے باوجود سینکڑوں حاجیوں کا سامان ائیر پورٹ پر ہی چھوٹ گیا ہے اور حاجی چلے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کوئی 2000 سے زیادہ سفر کا سامان ابھی بھی ائیر پورٹ پر پڑا ہے جس کا کوئی وارث نظر نہیں آتا۔

اس ائیر پورٹ سے 13 ملین مسافر ایک سال میں سفر کر سکتے ہیں لیکن ائیر پورٹ افسران نے مسافروں کی تعداد بڑھا کر 19 ملین کر دی ہے جس میں سے 13 ملین مسافر ابھی تک اس ائیر پورٹ کو سفر کے لیے استعمال کر چکے ہیں۔ سعودی سول اتھارٹی چیئرمین عبدالحکیم تمیمی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس بار حاجیوں کو سفر میں خاصی تکلیف اٹھانی پڑی لیکن جو بھی خامیاں رہ گئیں ان کو درست کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ تمیمی نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ان سب پریشانیوں کا سبب مختلف سرکاری ایجنسیوں کے درمیان تال میل کا نہ ہونا بھی تھا۔

ذرائع کے مطابق ائیر پورٹ پر ہونے والی بدنظمی کی کئی وجوہات تھیں۔ مثلاً مسافروں کے ڈھنگ سے گروپ نہیں بنائے گئے، پھر فلائٹ دیر سے گئیں تو سامان ڈھونے کی بیلٹ پر یکایک کافی بوجھ ہو گیا اور اس وجہ سے ائیر پورٹ پر بھیڑ بڑھتی چلی گئی۔ اکثر یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ اسٹاف نے حاجیوں کو ان کے وزن سے زیادہ سامان لے جانے کی اجازت دے دی جس کے سبب ’کنویئر بیلٹ‘ بوجھے کی وجہ سے ٹوٹ گئی جس کا اثر فلائٹ کے اوقات پر پڑا اور فلائٹ جانے میں تاخیر ہوئی۔

اس سلسلے میں افسران کا کہنا تھا کہ دو ملین یعنی 20 لاکھ مسافروں کو ایک چھوٹی سی مدت میں ایک ائیر پورٹ سے واپس بھیجنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ایسے حالات میں تھوڑی بہت پریشانیوں کا آجانا فطری بات ہے۔ لیکن ائیر پورٹ پر آنے والی پریشانیوں کی وجہ سے حاجیوں کو بہت مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا۔

ائیر پورٹ پر کہیں لوگ بہت پریشان نظر آتے تھے تو کچھ لوگ خوش بھی دکھائی پڑ رہے تھے۔ مثلاً لکھنؤ سے آئے حاجی محمد فرید اس بات سے بہت خوش تھے کہ ان کے کھوئے ہوئے دو سوٹ کیس اور آب زم زم ان کو واپس مل گیا۔ جب کہ ان کے ساتھ شکیل احمد کو ان کا کھویا سامان نہیں مل سکا۔ شکیل احمد منگل سے ائیر پورٹ پر پڑے ہیں کیونکہ ان کو سامان نہیں مل سکا ہے۔

جدہ میں واقع انڈین کاؤنصلیٹ کے ممبران سعودی اتھارٹی کے ساتھ مل کر ائیر پورٹ پر ہو رہی بدنظمی کو سنبھالنے کی کوشش میں لگے ہیں اور کوشش یہی کی جا رہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ حاجی وقت معینہ کے اندر سعودی عرب سے واپس چلے جائیں۔

Published: 16 Sep 2017, 3:17 PM