اوپیک اور اتحادیوں کا اومیکرون کے پھیلاؤ کے باوجود تیل پیداوار میں اضافے کا اعلان

تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور اس کے اتحادی ممالک نے فروری میں تیل کی یومیہ پیداوار میں چارلاکھ بیرل کااضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے

اوپیک / العربیہ ڈاٹ نیٹ
اوپیک / العربیہ ڈاٹ نیٹ
user

قومی آوازبیورو

ماسکو: تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور اس کے اتحادی ممالک نے فروری میں تیل کی یومیہ پیداوار میں چارلاکھ بیرل کااضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تیرہ رکن ممالک پر مشتمل اوپیک اور اس کے اتحادی روس کی قیادت میں 10 ممالک نے دنیا میں کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد یومیہ پیداوار میں کمی کردی تھی۔اب وہ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں قدرے مستحکم ہونے کے بعد بتدریج تیل پیداوار میں اضافہ کررہے ہیں۔

اوپیک اوراس کے اتحادی ممالک نے منگل کے روز تیل پیداوار میں اضافے کا فیصلہ اس امید کے ساتھ کیا ہے کہ کووِڈ-19 کی اومیکرون شکل کے تیزی سے پھیلنے کے باوجود زمینی وفضائی سفر اور ایندھن کی مانگ برقرار رہے گی۔

اوپیک کے رکن سعودی عرب اورغیر رکن روس کی قیادت میں اوپیک پلس اتحاد نے کہا ہے کہ وہ فروری سے یومیہ پیداوار میں چار لاکھ بیرل کا اضافہ کرے گا اور وبا کے عروج کے دوران میں پیداوار میں کی گئی کٹوتی کو آہستہ آہستہ بحال کرنے کے لیے نقشہ راہ پر مکمل طور پر کاربند ہے۔


واضح رہے کہ نومبر کے آخرمیں انتہائی متعدی اومیکرون کی تشخیص کی ابتدائی اطلاعات کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی تھی اور تیل کے ذخائربھی کم ہوگئے تھے۔ لیکن اس کے بعد قیمتیں بحال ہوگئی ہیں اورمارکیٹ میں ہیجانی کیفیت ختم ہوچکی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی آمدورفت اورشہری ہوا بازی کی سرگرمی سے پتاچلتا ہے کہ اومیکرون اگرچہ سرخیوں میں چھایا ہوا ہےاوراسپتالوں کی صلاحیت کے بارے میں خدشات پیدا کررہا ہے لیکن اس سے ایندھن کی مانگ میں زبردست کمی نہیں آسکتی۔

اب اوپیک پلس ممالک تیل کی پیداوار میں بتدریج اضافہ کررہے ہیں اور 2020ءمیں پیداوار میں کی گئی نمایاں کمی کو بحال کررہے ہیں۔تب دنیا کے ملکوں نے کروناوائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کردیا تھا اور سفری پابندیاں عاید کردی تھیں،جس کی وجہ سے موٹروں اور ہوابازی کے ایندھن کی مانگ میں کمی آئی تھی۔

امریکااور تیل کے صارف دیگرممالک نے 23 نومبرکوتوانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کی کوشش میں اپنے تزویراتی ذخائر سے تیل کے مربوط اجراء کا اعلان کیا تھا مگراس سے افراط زرکو مہمیزملی ہے اور امریکی ڈرائیوروں کے لیے سیاسی طور پر حساس گیسولین کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔اس کے باوجود صدرجوبائیڈن کے اس اقدام کو قیمتوں پر صرف خاموشی سے اثرانداز ہونے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔


امریکی گیسولین کی قیمت میں حالیہ کمی 3.28 ڈالرفی گیلن کی قومی اوسط سے مستحکم ہوئی ہے۔نومبر کے وسط میں قریباً 3.40 ڈالرفی گیلن قیمت تھی۔اس طرح اس میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔