سعودی عرب میں ’عقد نکاح‘ کی تکمیل اور منظوری کا نیا طریقہ کار

اس طریقہ کار پرعمل درآمد سے نہ صرف عقد نکاح کی جلد تکمیل اور منظوری ہوسکے گی بلکہ نکاح کے حوالے سے زوجین کے بارے میں معلومات کی درستگی کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

قومی آوازبیورو

الریاض: سعودی عرب نے مملکت میں عقد نکاح کے طریقہ کار کوزیادہ سہل اور تیز رفتار بنانے کے لیے نیا طریقہ کار متعارف کرایا ہے۔ اس طریقہ کار پرعمل درآمد سے نہ صرف عقد نکاح کی جلد تکمیل اور منظوری ہوسکے گی بلکہ نکاح کے حوالے سے زوجین کے بارے میں معلومات کی درستگی کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔

سعودی عرب کی وزارت انصاف نے عقد نکاح مکمل کرنے اور اس کی منظوری کے نئے طریقہ کار کا اعلان کیا ہے۔اس کا مقصد نکاح کے تمام پہلوؤں کی تیزی سے تکمیل میں تعاون کیا جا سکے۔ اس سے فریقین کی حیثیت کو سول سٹیٹس کے ساتھ معاہدے میں اپ ڈیٹ کرنا بھی شامل ہے۔


وزارت انصاف نے واضح کیا کہ نکاح کی رجسٹریشن اور اس کی منظوری سے متعلق نئے طریقہ کار میں واضح کیا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں نکاح رجسٹریشن کی درخواست سے قبل درخواست گذار جوڑے وزارت انصاف کے پورٹل پر بنیادی معلومات کا اندارج کرنا ہوگا۔ وہاں پر تمام درکار معلومات درج کی جائیں گی۔ درج شدہ ڈیٹا کی درستگی کی تصدیق کے بعد درخواست جمع کروائی جائے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارت انصاف کے ماہرین اس درخواست کا جائزہ لیں گے۔ معاہدے کی شرائط،۔ ضوابط اور درج معلومات کی تصدیق کا عمل صرف دو روز میں مکمل کرلیا جائے گا۔

پھر فریقین نکاح کی دستاویز کی منظور دیتے ہوئے درخواست دہندہ کو شادی کے معاہدے پر جانے اور تقاضوں کی حتمی توثیق کے لیے مجاز شخص نکاح خواں کے انتخاب کی اجازت دی جائےگی۔ نکاح خواں عقد نکاح میں منسلک ہونے والی خاتون سے زبانی بھی اس کا بیان سننے کاپابند ہوگا۔


غلطی کی روک تھام

وزارت نے کا کہنا ہے کہ عقد نکاح کے اس نئے طریقہ کار پرعمل درآمد سے اس اہم شرعی اور سماجی مسئلے کے مراحل کی تکمیل میں غلطی کا امکان کم سے کم رہ جائے گا۔

وزارت انصاف نے مزید کہا کہ یہ طریقہ کار سابقہ مسائل کو حل کرے گا اور درست اعداد و شمار داخل کرنے اور معلومات کی درستگی کو یقینی بنائے گا۔ اس طرح جس کام میں کئی ہفتوں کا وقت لگتا تھا وہ چند روز میں پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔