دسترخوانِ رمضان: مکّہ کے بازاروں میں ماہ صیام کے مقبول ’عوامی کھابے‘

ماہ رمضان میں مکہ کی پرانی کالونیوں‌ میں بازاروں‌ کی رونقیں بڑھ جاتی ہیں اور مارکیٹس خریداروں سے بھر جاتی ہیں۔ ہر روزہ دار اپنے پسند کے کھابوں کی خریداری اور اس کے بھاؤ تاؤ میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔

عوامی کھابوں کی فروخت کے لئے صدا لگا کر سودا بیچنے کا انداز بھی مخصوص کلچر کی عکاسی کرتا ہے
عوامی کھابوں کی فروخت کے لئے صدا لگا کر سودا بیچنے کا انداز بھی مخصوص کلچر کی عکاسی کرتا ہے

قومی آوازبیورو

ماہ صیام کی آمد کے ساتھ ہی دنیا بھر میں مسلمان روزہ داروں کی سحر وافطار کے لیے خصوصی اشیائے خورد ونوش کی دوکانیں بہتات میں دکھائی دینے لگتی ہیں۔ دنیا کے دیگر شہروں کی طرح مکّہ مکرمہ بھی ماہ صیام کے خصوصی عوامی کھابوں کے اعتبار سے کافی شہرت رکھتا ہے۔

مکہ کی پرانی کالونیوں میں قائم بازاروں میں ماہ صیام میں افطاری اور سحری کے اوقات میں خصوصی کھانوں کی دکانوں‌ پر رش بڑھ جاتا ہے۔ افطاری سے قبل شام کے اوقات میں بازاروں میں ہر طرف دکانداروں کی طرف سے چیزوں کے نام لے لے کر روزہ داروں کو خریداری کی دعوت دی جاتی ہے۔

رمضان المبارک میں مکہ کی پرانی کالونیوں‌ میں بازاروں‌ کی رونقیں بڑھ جاتی ہیں اور مارکیٹس خریداروں سے بھر جاتی ہیں۔ ہر روزہ دار اپنے پسند کے کھابوں کی خریداری اور اس کے بھاؤ تاؤ میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔

پھلیاں، مٹر، نان رمضان المبارک کے مرغوب کھانوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ اس کےعلاوہ قیمہ، سموسے اور سوبیا شربت بھی ماہ مبارک میں مکہ کے بازاروں میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کھانے پینے کی چیزوں میں‌ شامل ہیں۔

ان اشیاء خورد ونوش کی فروخت کے لیے چاروں اطراف سے دکانداروں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ ان بازاروں میں انواع واقسام کے کھابوں اور انہیں فروخت کرنے والوں کی بھانت بھانت آوازوں کے درمیان ان کے خریداروں کی بھی کوئی کمی نہیں ہوتی۔

خریداروں میں مقامی روزہ داروں کے ساتھ دوسرے ملکوں سے آئے معتمرین کرام بھی شامل ہوتے ہیں جو اپنے پسند کے مشروبات اور ماکولات خریدتے پائے جاتے ہیں۔

بشکریہ العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ ۔ حامد القرشی