کلب صادق اتحاد امت کے داعی اور ہندو-مسلم اتحاد کے علمبردار تھے، سعودی عرب میں تعزیتی نشست کا انعقاد

جامعہ الیومنائی ایسوسی ایشن ریاض کے سابق صدر آفتاب علی نظامی نے اپنے ابتدائیہ کلمات میں مولانا کی ہمہ گیر شخصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مولانا کی پوری زندگی امت کے لیے مشعل راہ اور قابل تقلید ہے۔

تصویر پریس ریلیز
تصویر پریس ریلیز
user

پریس ریلیز

ریاض: جامعہ الیومنائی فورم سعودی عرب کی جانب سے مولانا ڈاکٹر کلبِ صادق علیہ الرحمہ کی یاد میں ایک تعزیتی جلسے کا انعقاد کیا گیا جس میں مولانا کی ملی اور قومی خدمات کو یاد کیا گیا۔ جامعہ، علی گڑھ، ندوہ، دیوبند، جامعتہ الفلاح اور جامعہ ہمدرد الیومنائی کے نمائندگان کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی دیگر سرکردہ شخصیات نے مولانا کلب صادق مرحوم کے تعلیمی مشن اور فلاح امت کے لیے اُن کی بیش بہا خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔

مولانا کلب صادق، تصویر نواب اختر
مولانا کلب صادق، تصویر نواب اختر
کلب صادق اتحاد امت کے داعی اور  ہندو-مسلم اتحاد کے علمبردار تھے، سعودی عرب میں تعزیتی نشست کا انعقاد

جامعہ الیومنائی ایسوسی ایشن ریاض کے سابق صدر آفتاب علی نظامی نے اپنے ابتدائیہ کلمات میں مولانا کی ہمہ گیر شخصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مولانا کی پوری زندگی امت کے لیے مشعل راہ اور قابل تقلید ہے۔ انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کی مشرق وسطٰی شاخ کے کنوینر اور جامعہ طلبا یونین کے سابق نائب صدر مرشد کمال نے کہا کہ مولانا نے اپنی پوری زندگی حقیقی اسلام کے سچے مبلغ کی حیثیت سے گزار دی۔ اتحاد امت کی اُن کی انتھک کوششوں کو تاریخ میں سنہرے لفظوں میں لکھا جائے گا۔ مرشد کمال نے کہا کہ مولانا کلب صادق موجودہ ہندوستان میں تحاد امت کے سب سے بڑے داعی اور ہندو مسلم اتحاد کے سب سے بڑے علمبردار تھے۔


تنظیم بسواس کے جنرل سکریٹری اخترالاسلام صدیقی نے مولانا سے اپنی تفصیلی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر کلب صادق مرحوم کی شخصیت اعلیٰ اخلاق و کردار، وسعت قلبی اور روشن خیالی کا مجموعہ تھی۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کے دل میں امت کے لیے ایک درد تھا اور وہ بہت گہری اور وسیع باتیں بالکل ہلکے پھلک انداز میں اس طرح کہہ جاتے تھے کے سامعین اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔

جامعہ الیومنائی ایسوسی ایشن کے ایک اور سابق صدر غزال مہدی نے ڈاکٹر کلب صادق صاحب کے تعلیمی مشن پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب جس علم اور تعلیم کو پھیلانے کی بات کر تے تھے اُس کا مقصد کسی فرد کو چھوٹے چھوٹے مسلکی، مذہبی، علاقائی یا لسانی شناختوں میں بانٹنا نہیں تھا بلکہ فرد کو تعلیم کے ذریعہ عالم انسانیت کی ایک مضبوط اکائی بنانا تھا۔ وہ خواتین کے حقوق اور اور اُن کی تعلیم کے لیے بھی بہت فکر مند رہتے تھے۔


جامعہ الیومنائی نثار احمدخاں نے مولانا کلب صادق کے حیات اور کارنامے پر ایک تفصیلی مقالہ پیش کیا جس میں مولانا کی زندگی کے مختلف گوشوں پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ مفتی شبیر احمد ندوی نے کہا کہ مولانا کلب صادق صاحب جیسی ہستیاں صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں اور اُن کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے اُس کی تلافی آسان نہیں ہوگی۔ ظفر باری نے شرکا سے مولانا کے مشن کو جاری رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مولانا کی تقلید کرتے ہوئے فرقہ بندی، مسلکی اختلاف اور تنگ نظری کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے، یہی مولانا کو سچی خراج عقیدت ہوگی۔ جلسے سے مولانا ذاکر ندوی، مولانا نقی احمد ندوی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔