لکھنؤ، گھنٹہ گھر مظاہرہ: منور رانا کی بیٹیوں سمیت 150 خواتین کے خلاف ایف آئی آر درج

ٹھاکر گنج تھانہ میں 3 ایف آئی آر درج ہوئیں ہیں جن میں 18 لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے۔ نامزد میں بیشتر خواتین شامل ہیں اورمیڈیا ذرائع کے مطابق ان میں منور رانا کی بیٹیوں سمیہ و فوزیہ کے نام بھی شامل ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف خواتین کا احتجاجی مظاہرہ جاری ہے۔ زبردست ٹھنڈ میں بھی گھنٹہ گھر پر خواتین جمی ہوئی ہیں اور پولس کا دباؤ ان پر کسی بھی طرح اثرانداز ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا ہے۔ اس درمیان گھنٹہ گھر پر مظاہرہ کر رہی خواتین کے خلاف پولس نے ایف آئی آر درج کر دی ہے۔ دفعہ144 کی خلاف ورزی کے معاملے میں یہ ایف آئی آر درج ہوئی ہے جس میں کم و بیش 150 خواتین کو شامل کیا ہے اور ان میں 18 کو نامزد کیا گیا ہے۔

میڈیا ذرائع کے مطابق لکھنؤ کے ٹھاکر گنج تھانہ میں تین ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔ ایک ایف آئی آر میں 4 افراد کو نامزد ملزم بنایا گیا ہے جن میں اردو کے مشہور و معروف شاعر منور رانا کی بیٹیوں سمیہ اور فوزیہ کے نام بھی شامل ہیں۔ سمیہ اور فوزیہ گھنٹہ گھر پر ہو رہے خواتین کے مظاہرے کی قیادت کر رہی ہیں اور یو پی پولس نے ان پر دباؤ بنایا تھا کہ وہ مظاہرہ ختم کریں، لیکن انھوں نے کسی بھی حال میں ایسا کرنے سے منع کر دیا تھا۔ گھنٹہ گھر پر جمع خواتین نے شہریت ترمیمی قانون واپس لینے اور این آر سی نافذ نہیں کرنے کی صورت میں ہی مظاہرہ ختم کرنے کی بات کہی تھی۔

اس سے قبل اتوار کو لکھنؤواقع گھنٹہ گھرپر مظاہرہ کر رہی خواتین سے پولس نے کمبل اور کھانے کا سامان چھین لیے تھے۔ زبردست سردی کے درمیان اتوار کی صبح گھنٹہ گھر سے کمبل اور کھانے کے سامان چھین لیے جانے کی تصویریں و ویڈیوز سامنے آئے تھے۔ گھنٹہ گھر پر خواتین پرامن مظاہرہ کر رہی خواتین سے پولس نے گھر جانے کو کہا تھا لیکن وہ ایسا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئیں۔ الزام ہے کہ مظاہرہ سے ناراض پولس والوں نے خواتین سے کمبل اور کھانے کا سامان چھین لیا۔

گھنٹہ گھر پر شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہی خواتین سے کمبل چھینے جانے پر پولس نے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کے دوران کچھ لوگ وہاں پر رسی اور ڈنڈے سے گھیرا بنا کر شیٹ لگا رہے تھے جسے لگانے سے منع کیا گیا۔ کچھ تنظیموں کے لوگ پارک میں کمبل تقسیم کر رہے تھے۔ آس پاس کے لوگ کمبل لینے آ رہے تھے جو دھرنے میں شامل نہیں تھے۔ پولس نے کمبل اور ان تنظیموں کے لوگوں کو ہٹایا اور کمبلوں کو قانونی طریقے سے قبضے میں لیا۔‘‘