فوجی کارروائی کے بعد شام میں بڑے پیمانے پر لوگوں کی نقل مکانی

شام کے شمال مشرقی شہر راس العین میں ترکی کی طرف سے کرد جنگجوؤں کے خلاف شروع کردہ آپریشن کے بعد بڑے پیمانے پر لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

شامی آبزرویٹری برائے ہیومن رائٹس کے مطابق ترکی کے شمال مشرقی شام پر حملے نے ہزاروں شہریوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا ہے۔ انسانی حقوق گروپ کے ڈائریکٹر رامی عبد الرحمن نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ راس العین سے نقل مکانی کرنے والے افراد جنوبی علاقے الحسکہ کی طرف جنوب کی طرف جا رہے ہیں۔ جب کہ تل ابیض کے علاقے سے بھی لوگوں کی بڑی تعداد نے بمباری کے خوف سے گھر بار چھوڑنا شروع کردیئے ہیں۔

شام کے آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے مطابق ترکی کے جنگی طیاروں نے شمالی شام میں سرحدی علاقے راس العین میں بمباری جاری رکھے ہوئے ہیں۔

فوجی کارروائی کے بعد شام میں بڑے پیمانے پر لوگوں کی نقل مکانی

راس العین کے علاقے میں اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق شہر کو مسلسل توپ خانے سے بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں درجنوں خاندان گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ لوگوں میں ہرطرف خوف وہراس پھیلا ہوا ہے۔ متاثرین میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے جن کے پاس سرچھپانے کے لیے کوئی متبادل انتظام نہیں ہے۔ آبزرویٹری کے مطابق کہ ترک توپ خانے کی گولہ باری سے راس العین سے 100 کلومیٹر دور مغرب میں واقع تلہ ابیض شہر کے آس پاس دیہاتوں کو نشانہ بنایا گیا۔

آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق بدھ کے روز شام کے شہر جزیرہ کے علاقے تل ابیض میں راس العین سے 100 کلومیٹر شمال ترک فوج کی بمباری کے بعد شہریوں نے نقل مکانی شروع کردی تھی۔

خیال رہے کہ ترک صدر رجب طیب ایردوگان نے بدھ کو ٹوئٹر پرشام میں فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ترکی کا کہنا ہے کہ وہ شام میں کرد دہشت گردوں اور داعش کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ شام کے اندر سیف زون کے قیام کے لیے راہ ہموار کی جاسکے تاہم عالمی سطح پر ان کے اس اقدام کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

(بشکریہ ، العربیہ ڈاٹ نیٹ)

Published: 10 Oct 2019, 10:14 AM