امریکہ کے خلاف ایران کا جواب ناکافی ہے: علی خامنہ ای

ایرانی رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای نے عراق میں اتحادی افواج کے اڈوں پر میزائل حملوں کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’امریکی افواج کو خطے سے چلے جانا چاہیے‘‘۔

سید علی خامنہ ای
سید علی خامنہ ای
user

قومی آوازبیورو

ایران نے عراق میں اتحادی افواج کے اڈوں پر میزائل حملے ضرور کیے ہیں اور اس میں اس کے مطابق دشمن کا بڑا جانی نقصان بھی ہوا ہے، لیکن ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کے بیان سے محسوس ہوتا کہ وہ ایران کے اس جواب سے پوری طرح مطمئن نہیں ہیں۔ عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملوں کے بعد اپنے خطاب میں سید علی خامنہ ای نے اعتراف کیا کہ قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر ایران کا جواب ناکافی ہے۔ سید علی خامنہ ای کے اس بیان سے ایک اور اشارہ ملتا ہے کہ ابھی ایران کی جانب سے اور بھی کارروائی ہو سکتی ہے۔

ایرانی رہبر اعلی کا یہ موقف بدھ کے روز سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک خطاب کے دوران سامنے آیا۔ سید علی خامنہ ای نے عراق میں اتحادی افواج کے اڈوں پر میزائل حملوں کو کامیاب قرار دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ "امریکی افواج کو خطے سے چلا جانا چاہیے"۔ انہوں نے باور کرایا کہ ایران کا دشمن امریکا ہی ہے۔

جوہری معاہدے کے حوالے سے سید علی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ "جوہری بات چیت کا کسی بھی طور دوبارہ آغاز امریکا کے غلبے کی راہ ہموار کر دے گا"۔ سید علی خامنہ ای نے موجودہ حالات کو مشکل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک وسیع محاذ ایران کے مقابلے پر آیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قاسم سلیمانی کا قتل ظاہر کرتا ہے کہ "ایرانی انقلاب" زندہ ہے۔

ادھر ایرانی شوری نگہبان نے باور کرایا ہے کہ عراق میں میزائل حملہ قانونی حیثیت کا حامل دفاع ہے۔ شوری نگہبان کے ترجمان عباس كدخدائی نے بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ "عراق میں امریکی اڈوں پر ایرانی پاسداران انقلاب کا میزائل حملہ، امریکی جارحیت کے مقابل قانونی دفاع ہے"۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ آج علی الصبح کی جانے والی کارروائی اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کی رُو سے منظور شدہ ہے۔

اس سے قبل ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا کہ اس نے عراق میں انبار کے عین الاسد اور اربیل کے حریر فوجی اڈوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ دونوں اڈوں میں امریکی فوج موجود ہے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق پاسداران کا کہنا ہے کہ عراق میں امریکی اہداف پر ایرانی حملوں کے جواب میں امریکا کے کسی بھی اقدام کا نیا رد عمل سامنے آئے گا۔

امریکی وزارت دفاع پینٹاگن کے مطابق عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں محدود سطح پر مادی نقصان ہوا ہے۔ ایک امریکی ذمے دار نے تصدیق کی ہے کہ زیادہ تر ایرانی میزائل اپنے اہداف پر نہیں پہنچ سکے۔