متحدہ عرب امارات میں صنفی تنوع میں اضافہ، مزید خواتین کمپنیوں کے بورڈز میں اعلیٰ عہدوں پر فائز

متحدہ عرب امارات میں بورڈ روم میں صنفی تنوع کو بہتر بنانے کی مسلسل کوششیں جاری ہیں اور ان کے نتیجے میں رواں سال بورڈ کے عہدوں پر زیادہ خواتین (8.9 فی صد) فائز ہوئی ہیں

تصویر العربیہ ڈاٹ نیٹ
تصویر العربیہ ڈاٹ نیٹ
user

قومی آوازبیورو

شارجہ: جی سی سی بورڈ رومز میں صنفی مساوات کے لیے کام کرنے والے سماجی کاروباری ادارے ارورا 50 اور محمد بن راشد اسکول آف گورنمنٹ (ایم بی آر ایس جی) کی تحقیق کے مطابق متحدہ عرب امارات میں بورڈ روم میں صنفی تنوع کو بہتر بنانے کی مسلسل کوششیں جاری ہیں اور ان کے نتیجے میں رواں سال بورڈ کے عہدوں پر زیادہ خواتین (8.9 فی صد) فائز ہوئی ہیں۔ 2020 میں ان کی تعداد 3.5 فی صد تھی۔

ابوظبی نیشنل آئل کمپنی (اے ڈی این او سی) کی سرپرستی میں ’’متحدہ عرب امارات میں نان ایگزیکٹو بورڈ کیریئرز: صنفی توازن کا راستہ‘‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ مرتب کی گئی ہے۔اس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ابوظبی سکیورٹیزایکسچینج (اے ڈی ایکس) اور دبئی فنانشیل مارکیٹ (ڈی ایف ایم) میں درج شدہ 115 کمپنیوں کی 868 بورڈ نشستوں میں سے 77 نشستیں اب خواتین کے پاس ہیں۔

جمعرات کو جاری شدہ اس رپورٹ میں ارورا50 کے تحقیقی نتائج کے مطابق یہ تعداد متحدہ عرب امارات کے بورڈ رومز میں خواتین کی 8.9 فی صد نمائندگی کرتی ہے۔ 2020 میں یہ تعداد 3.5 فی صد تھی۔

یو اے ای میں کمپنیوں کے بورڈز میں خواتین کی تعداد میں اضافے کے لیے سکیورٹیزاورکماڈٹیز اتھارٹی (ایس سی اے) نے گذشتہ سال ایک کوٹامقرر کیا تھا۔اس میں یواے ای کی تمام فہرست شدہ کمپنیوں کےبورڈز میں کم سے کم ایک خاتون کا تقررلازمی قرار دیا گیا تھا۔


جی سی سی میں کی گئی اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق میں رپورٹ میں آزاد بورڈ ڈائریکٹرشپ کے ساتھ 16 خواتین کا انٹرویو کیا گیا تاکہ وہ اہم اقدامات کو سمجھ سکیں جو خواہش مند خواتین بورڈ ڈائریکٹرز اپنے پورے کیریئر کے دوران میں غیرایگزیکٹو بورڈ کے کرداروں تک پہنچنے کے لیے فعال انداز میں کرسکتی ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں قائم ارورا 50 کی مشترکہ بنیاد شیخہ شیما بنت سلطان بن خلیفہ آ ل نہیان اور ڈیانا وائلڈ نے 2020 میں رکھی تھی۔ارورا50 کا پہلا کامیاب اقدام پاتھ وے 20 اسراع پروگرام کے ذریعے متحدہ عرب امارات میں بورڈز پر خواتین کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے۔ اب انھوں نے فہرست میں شامل کارپوریشنوں، بڑی نجی تنظیموں اور اعلیٰ ترقی کے کاروباروں کی حمایت توجہ مرکوز کی ہے۔اس میں ان کے تمام تنوع، مساوات اور شمولیت (ڈی ای آئی) مقاصد شامل ہیں۔

ارورا 50 کے شریک بانی وائلڈ نے کہا کہ ’’متحدہ عرب امارات بھر کے بورڈ رومز میں اس طرح کی پیش رفت دیکھنا بہت اچھا اور خوش آیند ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ تبدیلی کی رفتار کوتیز کرنے کے لیے بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس رپورٹ سے خطے کی خواتین کو اعتماد کے ساتھ سرفہرست ہونے میں مدد ملے گی۔

وائلڈ نے مزید کہا کہ اب زیادہ تنوع کو اپنانے والے بورڈز کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ وہ اعلیٰ کارکردگی اور منافع بخش ثمرات حاصل کرنے کے لیے جامع قیادت کے ذریعے ایسا کریں۔


اے ڈی این او سی ایل این جی کی چیف ایگزیکٹو آفیسر فاطمہ النعیمی نے کہا کہ ’’اے ڈی این او سی صنفی توازن کی حمایت اور خواتین کو ان کے کیریئر میں ترقی، ترقی اور بہترین کارکردگی میں مدد دینے کے لیے پرعزم ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمیں ارورا50 کے ساتھ تعاون کرنے پر فخر ہے۔ یہ اہم تحقیق ہمیں قومی صنفی توازن کے ایجنڈے کی حمایت میں بورڈوں پرصنفی تنوع کو مزید تیزکرنے کے لیے بہتر بصیرت اور قابل عمل سفارشات فراہم کرتی ہے‘‘۔

النعیمی اے ڈی این او سی گروپ کی تین خواتین چیف ایگزیکٹوز میں سے ایک ہیں۔اس توانائی کمپنی نے 2022 کے آخر تک ہر اے ڈی این او سی گروپ کے بورڈ میں کم سے کم ایک خاتون کی شمولیت کو یقینی بنانے کا عہد کیا ہے۔ اس وقت 16 خواتین اس کے 18 بورڈز میں شامل ہیں۔ اے ڈی این او سی کی اپنی صنفی توازن کمیٹی اور خواتین کی قیادت کے ترقیاتی پروگرام ہیں اوروہ ارورا50 کی پہلے کارپوریٹ کلائنٹ تھی۔

بورڈزمیں صنف اور سوچ کا تنوع پیدا کرکے کمپنی کی مستقبل کی کامیابی اورمنافع پر مثبت اثرڈالا جاسکتا ہے جبکہ اس طرح کی جامع قیادت زیادہ سے زیادہ خواتین کو ہر سطح پر فہرست میں شامل ہونے، پھلنے پھولنے اور کامیاب ہونے کی ترغیب دیتی ہے۔

بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔