عمران نے سعودی عرب کے ولی عہد سے کشمیر کے حالات پر تبادلہ خیال کیا

جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آئیں کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے ہندوستان کے فیصلے کے بعد پاکستان بوکھلایا ہوا ہے اور دنیا کو اس مسئلے پر اپنی طرف کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

اسلام آباد: پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے منگل کو سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر کشمیر کے حالات کے سلسلے میں بات چیت کی۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق دونوں لیڈروں نے علاقے کے حالیہ واقعات پر بحث کی۔ عمران خان نے ولی عہد کو کشمیر کے حالیہ واقعات کی اطلاع دی۔

واضح رہے کہ جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آئیں کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے ہندوستان کے فیصلے کے بعد پاکستان بوکھلایا ہوا ہے اور دنیا کو اس مسئلے پر اپنی طرف کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہفتے کو مسلمان اکثریتی متحدہ عرب امارات نے ہندوستانی وزیراعظم نریندرمودی کو اپنے ملک کا اعلی شہری اعزاز’آرڈر آف زید‘ سے نوازا ہے، جس کے بعد پاکستان اور بھی غصہ میں ہے۔

اس دوران مودی نے پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر سمیت سبھی مسئلے دوطرفہ ہیں اور ان میں کسی تیسرے فریق کا کوئی رول نہیں ہوسکتا۔ مودی نے جی-7 ملکوں کے چوٹی کانفرنس سے الگ ٹرمپ کےساتھ پریس کانفرنس میں کہا، ’’ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سبھی مسئلے دوطرفہ ہیں اور ہم ان کے لئے دنیا کے کسی بھی ملک کو زحمت نہیں دیتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہندوستان اور پاکستان جو 1947 سے پہلے ایک ہی تھے، مل کر سبھی مسئلوں پر بحث بھی کرسکتے ہیں اور ان کا حل بھی نکال سکتے ہیں۔‘‘

کشمیر مسئلے پر ثالثی کی پیش کش کرچکے ٹرمپ نے مودی کی بات سے اتفاق ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے کل رات (اتوار کی رات) کشمیر کے بارے میں بات کی۔ وزیراعظم کا خیال ہے کہ یہ مسئلہ ان کے کنٹرول میں ہے۔ وہ پاکستان کے ساتھ بات کرتے ہیں اور مجھے بھروسہ ہے کہ وہ کچھ بہت اچھا کریں گے۔‘‘

پی ایم مودی نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کئی دوطرفہ مسئلے ہیں۔ عمران خان جب الیکشن جیتے تھے تو انہوں نے مبارکباد دینے کے لئے انہیں ٹیلی فون کیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان اور ہندوستان دونوں کو غریبی، ناخواندگی اور بیماریوں سے لڑنا ہے۔ دونوں ملک مل کر غریبی اور بے انتظامی کے خلاف لڑیں اور دونوں کے عوام کی بھلائی کے لئے مل کر کام کریں۔‘‘

واضح رہے کہ عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر مسئلے پر ثالثی کرنے کی اپیل کی تھی لیکن مودی کے ٹرمپ کے سامنے صورت حال واضح کرنے اور کسی بھی قسم کی ثالثی سے انکار کرنے کے بعد پڑوسی ملک دیگر ذرائع سے اس مسئلے کو بھٹکانے کی کوشش میں لگا ہے۔ خان کے ملک سے خطاب کے دوران ہندوستان کو نیوکلیائی جنگ کی دھمکی کے ایک دن بعد منگل کو وہاں کے ریلوے وزیر شیخ راشد احمد نے بھی جنوبی ایشیا کے دو پڑوسی ملکوں کے درمیان نیوکلیائی جنگ چھیڑنے کی پھر سے دھمکی دی ہے۔