عمران خان کی سعودی ولی عہد اور فرمانروا سے ملاقات، کشمیر معاملے پر تبادلہ خیال

دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد سے ہی پاکستان کشمیر مسئلے کو کسی بھی پلیٹ فارم سے اٹھانے سے گریز نہیں کر رہا ہے، تاہم پاکستان کو اس معاملے میں ہر بار منہ کی کھانی پڑ رہی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

جدہ: پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی اور جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ سعودی عرب کے دو روزہ دورے پر جمعرات کو پہنچے عمران خان کا خیر مقدم مکہ کے گورنر خالد ا لفیصل عبدالعزیز نے کیا۔ بعد ازاں عمران خان نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان سے بھی ملاقات کی۔

وزیر اعظم پاکستان نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان سے ملاقات کے دروان قیق اور خریص میں ارامکو تنصیبات پر ہونےوالے حملوں کی مذمت کی اور موجودہ بحران میں سعودی عرب کے ساتھ ہرممکن تعاون کا یقین دلایا۔

عمران خان نے محمد بن سلمان سے ملاقات کے دوران سعودی تیل ٹینکروں پر حملے کی سخت مذمت کی۔ جیو نیوز کے مطابق میٹنگ میں عمران خان نے وادی کشمیر میں جاری مبینہ مظالم پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر سے خصوصی درجہ ختم کرنے کے بعد سے ایسے واقعات مزید بڑھ گئے ہیں۔ عمران خان اور محمد بن سلمان نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

اس سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ’’وزیر اعظم مسئلہ کشمیر پر محمد بن سلمان کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں رہے ہیں۔ اس برس کے اوائل فروری میں محمد بن سلمان کے دورے کے بعد پاکستان - سعودی عرب کے درمیان تعاون کے تمام شعبوں میں تعلقات نے رفتار پکڑی ہے‘‘۔

دونوں لیڈروں کے درمیان بات چیت کے دوران عمران خان نے کسی بھی دہشت گردانہ حملے کے خلاف سعودی عرب کی حمایت کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ پاکستان عرب کی حفاظت سے متعلق کسی بھی خطرے کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

واضح ر ہے کہ ہندوستان کی مرکزی حکومت نے گزشتہ پانچ اگست کو جموں و کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے سے متعلق دفعہ 370 کو منسوخ کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے ہی پاکستان کشمیر مسئلے کو کسی بھی پلیٹ فارم سے اٹھانے سے گریز نہیں کر رہا ہے۔ تاہم پاکستان کو اس معاملے میں ہر بار منہ کی کھانی پڑ رہی ہے۔

Published: 20 Sep 2019, 1:10 PM