سعودی عرب کا تاریخی مقام 'روضہ السبلہ' گلستان میں کیسے بدلا!

روضہ السبلہ میں موسم بہار کی آمد کے ساتھ ہی ٹیلوں پر رنگا رنگ اور معطر پھول کھیتوں کو گلستان میں پیش کر دیتے ہیں، یہاں شیمراک ،ایک ارغوانی پھول لیو نڈ، بابونہ اور دوسرے رنگوں کے پھول کھلتے ہیں

تصویر العربیہ ڈاٹ نیٹ
تصویر العربیہ ڈاٹ نیٹ
user

قومی آوازبیورو

سعودی عرب کے وسط میں واقع'الزلفی' گورنری میں واقع 'روضہ السبلہ' ریتلے ٹیلوں پرسبرسبز شاداب اور انتہائی خوب صورت پھولوں نے علاقے کا رنگ ہی بدل ڈالا ہے۔

روضہ السبلہ میں موسم بہارکی آمد کے ساتھ ہی ٹیلوں پر رنگا رنگ اور معطر پھول کھیتوں کو گلستان میں پیش کر دیتے ہیں۔ بہار کے موسم میں شیمراک ،ایک ارغوانی پھول لیو نڈ،بابونہ اور دوسرے رنگوں کے پھول کھلتے ہیں۔

روضہ السبلہ ایک تاریخی مقام ہے۔ سعودی عرب کو متحد کرنے کے مشن کے دوران مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود مرحوم نے بھی یہاں پر قیام کیا۔ سعودی عرب کی آزادی کے لیے لڑی جانے والی جنگوں میں ایک فیصلہ کن معرکہ یہاں پر لڑا گیا۔

سعودی فوٹو گرافر عبداللہ البرغش نے روضہ السبلہ کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کیں۔ سعودی عرب میں سیاحت کے میدان میں رہ نمائی فراہم کرنے والے ولید العبیدی نے کہا کہ روضہ السبلہ الزلفی گورنری کے مشرق میں واقع ہے۔

یہ مقام کئی وادیوں کا سنگم ہے اور اس کے اطراف میں وادیاں اور کئی گھاٹیاں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موسم بہار میں‌ ہونے والی بارشوں کے باعث رنگا رنگ پھول کھلتے ہیں۔ السبلہ کی وجہ تسمیہ موسم بہار کے رنگا رنگ پھول اور سرسبز وشاداب گھاس اگتی ہے۔ اسے ایک سبزے کی سیرگاہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔

روضہ السبلہ میں ایک زرخیز سیاحتی مقام ہے۔ یہاں پر پرانے زمانے سے سردیوں میں گندم کی کاشت کی جاتی تھی۔ یہاں کے اہم اور خوبصورت مقامات میں وادی مرخ، وادی النوم مشہور ہیں۔ یہاں پر البعول کے نام سے کاشت کاری مشہور ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔