کورونا وبا کے دنوں ‌میں روزہ دار مسجد حرام میں افطاری کس طرح کرتے ہیں؟

ماضی میں حرم مکی میں سیکڑوں میٹر لمبے افطار دستر خوان بچھائے جاتے تھے جن پر روزہ دار بیٹھ کر افطار کرتے تھے لیکن اب کورونا وبا کی وجہ سے اجتماعی افطار کے بجائے الگ الگ روزہ افطار کرایا جاتا ہے

تصویر بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ
تصویر بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ
user

قومی آوازبیورو

الریاض: ماہ صیام کی آمد کے ساتھ ہی حرمین شریفین میں روزہ داروں کی وجہ سے روحانی کیفیات بڑھ گئی ہیں۔ روزہ دار مسجد حرام میں کھجور اور زمزم کے ساتھ روزہ افطار کرتے ہیں۔ اس سال کورونا وبا کی وجہ سے اجتماعی افطار کے بجائے روزہ داروں کو الگ الگ روزہ افطار کرایا جاتا ہے۔ ماضی میں حرم مکی میں سیکڑوں میٹر لمبے افطار دستر خوان بچھائے جاتے تھے جن پر روزہ دار بیٹھ کر روزہ افطار کرتے تھے۔

وبا کی وجہ سے اس بار رمضان المبارک کے موقعے پر حرم مکی میں اجتماعی افطار کا کوئی انتظام نہیں۔ انتظامیہ نے امارہ مکہ کی نمائندہ سقایہ و رفادہ کمیٹی کے تعاون سے روزہ داروں کو انفرادی طور پر کھجوریں فراہم کرنے کی اجازت دی گئی ہے تاہم حرم مکی میں سحری کےلیے کھانا تقسیم کرنے یا لانے کی اجازت نہیں۔

مسجد حرام کے انتظامی امور کی ذمہ دار صدارت عامہ کی طرف سے رضا کارانہ طور پر معتمرین اور حرم شریف کے ملازمین کے لیے الگ الگ افطار کا انتظام کیا گیا ہے۔

رضا کارانہ امور کے ڈائریکٹر خالد الشلوی نے بتایا کہ افطاری کا سامان معتمرین اور نمازیوں میں ان کی جگہ پر پہنچایا جاتا ہے۔ افطاری کا سامان تقسیم کرنے میں بھی کرونا ایس اوپیز کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔

(بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔