ایک مشہور پھل سعودی عرب کے پہاڑوں پر کیسے خود بہ خود اگنے لگا؟

جازان کے علاقے کیلا اور پپیتا وافر مقدار میں کاشت کیے جاتے ہیں مگر 'رام پھل' یا 'نونا' بھی اس علاقے کی ایک خاص سوغات بن چکا ہے۔ بہترین معیار اور طبی افادیت کی وجہ سے یہ پھل مہنگے داموں فروخت ہوتا ہے

ایک مشہور پھل سعودی عرب کے پہاڑوں میں کیسے خود بہ خود اگنے لگا؟
ایک مشہور پھل سعودی عرب کے پہاڑوں میں کیسے خود بہ خود اگنے لگا؟
user

قومی آوازبیورو

سعودی عرب کے جنوبی علاقے جازان کو پھلوں کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ یہاں پر 'سلا' نامی پہاڑی علاقے میں ایک ایسا پھل بھی کاشت کیا جاتا ہے جس کے بارے میں مقامی آبادی کو کم ہی علم ہے تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اس پھل کی کاشت کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔

اگرچہ جازان کے علاقے کیلا اور پپیتا وافر مقدار میں کاشت کیے جاتے ہیں مگر 'رام پھل' یا 'نونا' بھی اس علاقے کی ایک خاص سوغات بن چکا ہے۔ بہترین معیار اور طبی افادیت کی وجہ سے یہ پھل مہنگے داموں فروخت ہوتا ہے۔

جازان کے جبل سلا کے ایک مقامی کاشت کار یحییٰ الودعانی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 'رام پھل' کے پودے کو مقامی سطح پر 'القشطہ' کہا جاتا ہے۔ ان کے آبائو اجداد بھی اس پھل کو کاشت کرتے رہے۔ یہ انسانی محنت کا زیادہ متقاضی نہیں بلکہ جنگلی اور پہاڑی علاقوں میں خود ہی اگتا رہا ہے۔ اگر اس پودے کو مناسب ماحول ملے اور یہ تیزی کے ساتھ پھیل سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رام کا پھل پک جانے کے بعد اس کے دانے زمین پر گرتے ہیں جن میں سے اس کا بیج ہوا اور پانی کے ذریعے دوسرے مقامات پر منتقل ہو جاتا ہے۔ اس کی طبی اہمیت کی بدولت اسے 'سفر جل' بھی کہا جاتا ہے اور مقامی مارکیٹ میں اس کی ایک ٹوکری کی قیمت 150 سے 200 ریال تک ہوتی ہے۔ بعض اوقات اس کی طلب بڑھ جانے پر اس کی قیمت میں اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں مقامی سعودی کسان نے بتایا کہ یہ پھل سوڈان اور یمن میں‌بھی کاشت کیا جاتا ہے۔ اسے ہندوستانی سفر جل یا ہندوستانی پائن ایپل (انا ناس) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ پھل جازان میں وادی اسلم، المحابشہ اور مغربی نشیبی علاقوں، مصر میں اسکندریہ، مشرقی گورنری انشاص، الجیزہ، المنیا اور سوان اور کئی دوسرے گرم اور مرطوب علاقوں میں کاشت کیا جاتا ہے۔

(العربیہ ڈاٹ نیٹ)

    next