مزدلفہ کی مسجد مشعر الحرم تاریخ کے آئینے میں!

مسجد مشعرالحرام کے دو مینار ہیں جن کی اونچائی 32 میٹر ہے۔ مسجد کے شمالی، جنوبی اور مشرقی سمتوں سے داخلی راستے بنائے گئے ہیں۔

تصویر العربیہ ڈاٹ کام
تصویر العربیہ ڈاٹ کام

قومی آوازبیورو

مکہ معظمہ کی تاریخی مساجد میں مزدلفہ کی مسجد مشعر الحرام بھی ایک تاریخی مسجد ہے۔ اسلام کی تابناک تاریخ کی شاہد مساجد میں مسجد مشعر الحرام کو ہمیشہ ایک یادگار کے طورپرجانا جاتا ہے۔

تصویر العربیہ ڈاٹ کام
تصویر العربیہ ڈاٹ کام

مکہ میں کئی دوسری مساجد کی طرح مسجد مزدلفہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خصوصی نسبت رکھتی ہے۔ مزدلفہ میں مسجد مشعرالحرام کا عرفات کی تاریخی مسجد نمرہ اور منیٰ کی الخیف مسجد کے درمیان برابر فاصلہ ہے۔

حجۃ الوداع کے لیے آتے ہوئے نبی اکرم مزدلفہ کے مقام پر کچھ دیر رکے۔ بعد ازاں یہاں پرایک مسجد تعمیر کی گئی یہ مسجد 'قزح' نامی پہاڑ پربنائی گئی ہے اور یوم عرفہ کو غروب آفتاب کے بعد حجاج اس مسجد کا رخ کرتے ہیں۔

مسجد مشعر الحرام وہ تاریخی مسجد ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے "فإذا أفضتم من عرفات فاذكروا الله عند المشعر الحرام"۔ یہاں مشعر الحرام سے مسجد مشعرالحرام مراد لی جاتی ہے۔ بعض علماء اس مسجد کو مشعر الحرام اور بعض پورے مزدلفہ کو مشعرالحرام قرار دیتے ہیں۔ تیسری صدی ھجری میں یہاں مربع کی شکل کی ایک مسجد موجود تھی مگر وہ بہت چھوٹی تھی اور چھت کے بغیر تھی۔ بعد میں مسلمان سلاطین اور فرمانرواؤں نے اس مسجد کی تعمیرو توسیع کا عمل جاری رکھا۔

موجودہ آل سعود خاندان کے دور حکومت میں مسجد کی شرقا غربا 90 میٹر توسیع کی گئی جب کہ اس کی چوڑائی میں بھی اضاف کیا گیا ہے۔ اس مسجد میں ایک ہی وقت میں 12 ہزار افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔

مسجد مشعرالحرام کےدو مینار ہیں جن کی اونچائی 32 میٹر ہے۔ مسجد کے شمالی، جنوبی اور مشرقی سمتوں سے داخلی راستے بنائے گئے ہیں۔

(بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ)