’حجاج کرام کا سیاسی، مسلکی اور فرقہ وارانہ نعروں میں‌ ملوث ہونا مناسب نہیں‘

سعودی کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حجاج کرام کا سیاسی، مسلکی اور فرقہ وارانہ نعروں میں‌ ملوث ہونا مناسب نہیں۔ اس طرح کے تصرفات کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہوں گے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

ریاض: سعودی عرب نے حج بیت اللہ کے لیے آنے والے مہمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ حج کے موقع پر اپنی توجہ مقدس مقامات کی روحانی برکات سمیٹنے، شعائر حج کی ادائیگی اور فریضہ حج کی تعلیمات پرعمل پیرا ہونے پر مرکوز رکھیں اور ہرقسم کے مذہبی اور سیاسی نعرہ بازی کی الائشوں سے خُود کو دُور رکھیں۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ‌ کے مطابق گذشتہ روز سعودی کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حجاج کرام کا سیاسی، مسلکی اور فرقہ وارانہ نعروں میں‌ ملوث ہونا مناسب نہیں۔ اس طرح کے تصرفات کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہوں گے۔ اگر کسی شخص یا گروپ کی طرف سے حج کے موقع پر سیاسی نعرے بازی اور فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کی گئی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی 'ایس پی اے' کے مطابق کابینہ کے اجلاس کےبعد جاری ہونے والا بیان وزیر اطلاعات ترکی بن عبداللہ شبانہ نے پڑھ کر سنایا۔ اس موقع پر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے اسلام کے پانچویں رُکن یعنی حج کی ادائی کے لیے آنے والے فرزندان توحید کا خیر مقدم کیا اور ان کے فریضہ حج اور مناسک حج کی ادائیگی کی توفیق اور عبادت کی قبولیت کی بھی دعا کی۔

شاہ سلمان نے تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں پر حجاج کرام کو مناسک کی ادائیگی کے دوران ہرممکن مدد، سہولت اور آسانی فراہم کرنے پر زور دیا۔

گذشتہ روز شاہ سلمان کی زیرصدارت ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں علاقائی اور عالمی صورت حال پر بھی غور کیا گیا۔ کابینہ نے سنہ 2020ء کے آخر تک تیل کی پیداوار کم کرنے کے 'اوپیک' کے فیصلے کو سراہا۔ کابینہ نے جمہوریہ سوڈان میں احتجاجی تحریکوں اور مسلح افواج کے درمیان طے پائے شراکتِ اقتدار کے سمجھوتے کا بھی خیر مقدم کیا۔ اجلاس میں یمن، شام، لیبیا کی صورت حال اور ایران کی طرف سے خطے میں بڑھتی مداخلت اور اس کی روک تھام پر بھی غور کیا گیا۔