حج 2026 آخری مرحلے میں داخل، رمی اور قربانی کے بعد طواف افاضہ، طواف وداع کے بعد شروع ہوگی حجاج کی واپسی

حجاج کرام رمی، قربانی اور حلق جیسے مناسک ادا کر چکے جبکہ طواف افاضہ اور ایام تشریق کی عبادات جاری ہیں۔ طواف وداع کے بعد واپسی کا مرحلہ شروع ہوگا۔ ہندوستان کے پونے دو لاکھ عازمین بھی حج میں شریک ہیں

<div class="paragraphs"><p>Getty Images</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

مکہ مکرمہ: سعودی عرب میں سالانہ حج اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور لاکھوں حجاج کرام اہم مناسک کی ادائیگی کے بعد حج کی تکمیل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ حجاج کرام یوم عرفہ میں میدان عرفات میں وقوف، مزدلفہ میں قیام، جمرہ عقبہ کبریٰ پر رمی اور قربانی جیسے اہم ارکان ادا کر چکے ہیں جبکہ اب حج کے آخری مناسک جاری ہیں۔

عید الاضحی کے پہلے دن بدھ کی صبح پو پھٹتے ہی حجاج کرام نے مشعر منیٰ میں جمرات کمپلیکس کی طرف پیش قدمی کی اور جمرہ عقبہ کبریٰ پر کنکریاں مارنے کی رسم ادا کی۔ اس کے بعد قربانی، بال منڈوانے یا کٹوانے اور طواف افاضہ کا مرحلہ شروع ہوا۔ طواف افاضہ حج کے بنیادی ارکان میں شامل ہے اور اس کی ادائیگی کے لیے حجاج کرام مسلسل مسجد حرام پہنچ رہے ہیں۔

رمی کے ابتدائی مرحلے کے بعد حجاج دوبارہ منیٰ لوٹ رہے ہیں جہاں ایام تشریق کے دوران قیام کیا جا رہا ہے۔ آئندہ دو دنوں میں حجاج کرام تینوں جمرات پر سات سات کنکریاں ماریں گے۔ یہ عمل حج کے آخری اہم مراحل میں شمار ہوتا ہے اور اس کے بعد حجاج کی عبادات تکمیل کے قریب پہنچ جائیں گی۔


سعودی حکام نے جمرات پل، داخلی اور خارجی راستوں، منیٰ اور مسجد حرام کے اطراف غیر معمولی انتظامات کیے ہیں۔ سکیورٹی اہلکار، طبی ٹیمیں، ایمبولینس خدمات اور ہنگامی امدادی عملہ 24 گھنٹے خدمات انجام دے رہا ہے۔ شدید گرمی کے پیش نظر پانی، ٹھنڈک اور طبی سہولتوں پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

تمام مناسک مکمل ہونے کے بعد حجاج کرام مکہ مکرمہ سے روانگی سے قبل طواف وداع ادا کریں گے۔ طواف وداع حج کے اختتامی اعمال میں شامل ہے اور اس کے بعد بیرون ملک سے آنے والے عازمین کی مرحلہ وار واپسی کا عمل شروع ہو جائے گا۔

سعودی حکام کے مطابق اس سال 17 لاکھ سے زائد افراد حج کی سعادت حاصل کر رہے ہیں جن میں 15 لاکھ سے زیادہ بیرون ممالک سے آئے ہیں۔ ہندوستان سے اس سال ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد عازمین حج میں شریک ہوئے ہیں۔ ہندوستانی حجاج نے انتظامات، نقل و حرکت اور سہولتوں کو بہتر قرار دیا ہے۔ کئی ہندوستانی عازمین نے شدید گرمی کے باوجود حج انتظامات کو منظم بتایا اور کہا کہ حج ایک جسمانی طور پر دشوار مگر روحانی طور پر انتہائی اہم سفر ہے۔