حج پر بھی پڑا ایران جنگ کا اثر! اخراجات میں اضافہ کے بعد کئی ممالک نے شروع کی سبسڈی اسکیم

انڈونیشیا، پاکستان اور ملیشیا سمیت کئی ممالک کی حکومتوں نے مکہ اور مدینہ کے اس سالانہ مذہبی سفر کو دیکھتے ہوئے عازمین کے لیے بڑھے ہوئے خرچ کو کم کرنے میں مدد کے مقصد سے سبسڈی اسکیم شروع کی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>حج (فائل فوٹو)</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

موجودہ بین الاقوامی صورتحال اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات اب روز مرہ زندگی سے لے کرمذہبی سفر پر بھی واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ اس بارحج پر جانے والے عازمین کو بھی بڑا مالی جھٹکا لگا ہے۔ ایران کے ساتھ امریکہ-اسرائیل جنگ کی وجہ سے حج کے اخراجات میں پہلے کے مقابلے اضافہ ہوا ہے۔

’سیمفور‘ کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق خلیج فارس کے دوسری جانب پروازوں کی گنجائش میں کمی اور رسد کے راستوں میں رکاوٹوں کی وجہ سے سفری پیکجوں کی قیمتیں سفر شروع ہونے سے پہلے ہی 3 یا 4 گنا بڑھ گئی ہیں۔ بتا دیں کہ انڈونیشیا، پاکستان اور ملیشیا سمیت کئی ممالک کی حکومتوں نے مکہ اور مدینہ کے اس سالانہ مذہبی سفر کو دیکھتے ہوئے عازمین کے لیے بڑھے ہوئے خرچ کو کم کرنے میں مدد کے مقصد سے سبسڈی اسکیم شروع کی ہے۔


گزشتہ 3 برسوں میں حج پر فی کس اخراجات کی بات کریں تو 2023 میں اوسطاً فی حاجی خرچ 3.25 لاکھ روپے آیا تھا جو کہ 2024 میں 3.35 لاکھ روپئے ہوگیا۔ 2025 میں اوسطا فی حاجی خرچ 3.40 لاکھ روپئے تھا اور اب سال 2026 میں یہ بڑھ کر 3.74 لاکھ سے بھی کہیں زیادہ ہو گیا ہے۔

ہندوستان میں حج کے لیے نوڈل وزارت کے طور پر وزارت اقلیتی امور نے حج کمیٹی آف انڈیا، دیگر مرکزی وزارتوں، ریاستی حکومتوں اور سعودی افسران کے اشتراک سے عازمین حج کے لیے وسیع انتظامات کئے ہیں۔ ان کوششوں کا مقصد عازمین حج کے لیے آسان لاجسٹکس انتظامات اور زمینی سطح پر بہتر سہولیات یقینی بنانا ہے۔ ہندوستان سے اس بار حج پروازیں 18 اپریل سے شروع ہوئی تھیں۔


واضح رہے کہ ہندوستان سے سعودی عرب کے لیے عازمین حج کی روانگی کا سلسلہ 18 اپریل کو شروع ہوا تھا اور 20 مئی تک (تقریبا 32 دن) چلنے والی پروازوں کے ذریعہ اس سال 175025 ہندوستانی عازمین حج سعودی عرب پہنچے ہیں۔ 18 اپریل سے 4 مئی تک 31 پروازیں مدینہ منورہ کے لیے جبکہ 6 مئی سے 20 مئی تک 23 پروازیں مکہ مکرمہ کے لیے روانہ ہوئیں۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔