لبیک اللہم لبیک: آج وقوف عرفہ، عازمین حج میدان عرفات میں جمع، کل دی جائے گی قربانی

وقوف عرفہ کو حج کا سب سے عظیم رکن قرار دیا گیا ہے، اگر عازمین حج باقی تمام ارکان ادا کریں لیکن وہ مقررہ وقت کے دوران کسی بھی وجہ سے میدان عرفات کی حدود میں نہ پہنچ سکیں تو ان کا حج ادا نہیں ہوتا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

کورونا وبا کے پیش نظر انتہائی سخت احتیاطی اقدامات کے درمیان عازمین حج آج میدان عرفات میں پہنچ گئے ہیں۔ یہاں آج حج کا رکن عظیم یعنی وقوف عرفہ ہے۔ سعودی عرب حکومت نے یہاں پہلے سے ہی عازمین حج کے بیچ سماجی فاصلہ رکھنے کا خصوصی انتظام کر دیا تھا اور عازمین کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ وقوف عرفہ کے دوران ماسک ضرور پہنیں۔ حالانکہ سعودی حکومت نے مناسک حج کے مقامات کو وبا سے محفوظ قرار دیا ہے، پھر بھی ہر طرح کے احتیاطی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

بہر حال، اس سال تقریباً 10 ہزار عازمین حج کی سعادت حاصل کریں گے جو کہ اس وقت میدان عرفات پہنچ گئے ہیں۔ عرفات کا میدان مکہ مکرمہ کے جنوب مشرق میں جبل رحمت کے دامن میں واقع ہے۔ یہ میدان مکہ سے تقریباً 16 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ عرفات کا میدان پورا سال غیر آباد رہتا ہے لیکن وقوف عرفات کے دن یعنی 9 ذی الحجہ کو یہ میدان ایک عظیم الشان شہر کا منظر پیش کرتا ہے۔ عرفات کا میدان 9 ذی الحجہ کی صبح سے آباد ہونا شروع ہوتا ہے اور غروب آفتاب کے ساتھ ہی اس کی رونق ختم ہوجاتی ہے؛ پھر ایک سال تک غیر آباد ہو جاتا ہے۔ حجاج کرام مغرب کے وقت میدان عرفات سے مزدلفہ روانہ ہو جاتے ہیں جہاں وہ مغرب اورعشاء کی نمازیں ملا کر پڑھتے ہیں۔ مزدلفہ میں ایک رات قیام کے بعد حجاج کرام دوبارہ وادی منیٰ کے خیموں میں پہنچ جاتے ہیں اور حج کے دوسرے مناسک ادا کرتے ہیں۔

وقوف عرفات کو حج کا سب سے عظیم رکن (سب سے بڑا عمل) قرار دیا گیا ہے اگر عازمین حج باقی تمام ارکان ادا کر دیں لیکن اگر وہ مقررہ وقت کے دوران کسی بھی وجہ سے میدان عرفات کی حدود میں نہ پہنچ سکیں تو ان کا حج ادا نہیں ہوتا۔ عرفہ کا دن مغفرت اور گناہوں سے معافی کا دن ہے۔ اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام کا دن ہے۔ میدان عرفات میں حاضرین ندامت کے آنسو بہاتے ہوئے کانپتے ہاتھوں اور لرزتے ہونٹوں سے خدائے بزرگ و برتر سے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ اس میدان میں صرف ایک ہی لگن ہے، ایک ہی جذبہ ہے ایک ہی ولولہ ہے اور وہ ہے صرف اور صرف تکمیل حج۔ یہاں شرطِ اول صرف قیام ہے۔ اتنی بڑی بھیڑ میں بھی آپ اکیلے اور تنہا کھڑے ہیں۔ آپ اور اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں۔ آپ اللہ سے جو چاہیں مانگیں، کوئی پابندی نہیں۔ اس دن قدرت نے آپ کو مانگنے کا کھلا وقت دیا ہے۔ عرفات میں قیام کے دوران زیادہ سے زیادہ استغفار کرنا چاہیے۔ حجة الوداع کے موقعہ پر میدان عرفات ہی میں سرکار دو عالمﷺ نے اپنی اونٹنی پر بیٹھ کر وہ خطبہ دیا جس کے آگے تمام دنیا کے منشور بے معنی نظر آتے ہیں۔ میدان عرفات میں اس جگہ ایک سفید پتھر( بطور نشانی) لگا ہے۔ اس فصیح و بلیغ خطبے کا ایک ایک جملہ قیامت تک نسل انسانی کی رہنمائی کرتا رہے گا۔

قبل ازیں بدھ کی صبح سے مناسکِ حج کا آغاز ہوا اور منتخب عازمین حج مکہ مکرمہ میں مخصوص ہوٹل میں الگ تھلگ قیام کے بعد منیٰ پہنچے۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں میں پہلے ہی بتایا گیا تھا کہ حجاج کرام کو پچاس ، پچاس کے گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ان کا ایک طبی قائد مقرر کیا گیا ہے۔تمام مناسک کی ادائیگی ، منیٰ اور عرفات میں قیام ، اجتماع اور جمرات کو کنکریاں مارنے کے عمل کے دوران میں طے شدہ سماجی فاصلہ برقرار رکھیں گے اور ہر وقت چہروں پر ماسک پہن کر رکھیں گے۔

Published: 30 Jul 2020, 11:58 AM
next