طریق مکہ پروگرام: حاجیوں کی سہولت کے لئے ایک غیر معمولی پہل

الساطی نے بتایا کہ ’طریق مکہ پروگرام‘ سے استفادہ کرنے والے عازمین حج کو کسٹم اور امیگریشن کلیئرنس کے لیے سعودی عرب میں طویل انتظار کی زحمت نہیں اٹھانی پڑتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: حکومت سعودی عرب نے مکہ روڈ انیشی ایٹیوکے نام سے سفر حج کو زیادہ بہتر، سہل اور آرام دہ بنانے کی جو پہل کی ہے اس سے آئندہ برس سے ہندوستانی عازمین کو بھی استفادہ کرنے کی امید ہے۔ ان خیالات کا اظہار سعودی سفیر ڈاکٹر سعود الساطی نے آج یہاں حج انتظامات کے متعلق ایک خصوصی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ڈاکٹر الساطی نے بتایا کہ مکہ روڈ انیشی ایٹیو(طریق مکہ پہل) پاکستان، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، ملائشیا اور تیونس ملکوں میں کامیابی کے ساتھ نافذ ہوچکا ہے اور اس پروگرام کے تحت ان ملکوں سے امسال دو لاکھ 25 ہزار عامین حج کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا اس پروگرام کے سلسلے میں حکومت ہند کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے اور امید ہے کہ اگلے سال سے یہ ہندوستان میں بھی شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکام اور ہندوستانی افسران کے درمیان پچھلے دنوں اس موضوع پر مثبت بات چیت ہوئی ہے۔

مکہ روڈ انیشی ایٹیو کی تفصیل بتاتے ہوئے ڈاکٹر الساطی نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے حجاز مقدس جانے والے عازمین کو ان کے اپنے ملکوں ہی میں ہوائی اڈوں پر ای ویزے جاری کیے جاتے ہیں اور سعودی عرب میں آمد سے قبل ہی ان کے داخلے اور دیگر انتظامات کو حتمی شکل دی جاتی ہے تا کہ انھیں جدہ یا مدینہ ہوائی اڈے پر کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ بلا تاخیر اور بلا رکاوٹ اپنی جائے قیام منتقل ہوسکیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ طریق مکہ پروگرام سے استفادہ کرنے والے عازمین حج کی امیگریشن، سامان کی بکنگ اور کوڈنگ ان عازمین کی روانگی کے ہوائی اڈوں سے ہوتی ہے۔ ان کا سامان مکہ یا مدینہ میں ان کی رہائش گاہوں تک پہنچایا جاتا ہے اور انہیں کسٹم اور امیگریشن کلیئرنس کے لیے سعودی عرب میں طویل انتظار کی زحمت نہیں اٹھانا پڑتی ہے۔ اس سال حج کے سیزن میں پانچ ملکوں سے تعلق رکھنے والے 2.25 لاکھ حجاج طریقہ مکہ پروگرام سے مستفید ہوں گے۔ پروگرام میں تیونس، پاکستان، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ملائشیا شامل ہیں۔ سعودی سفیر نے بتایا کہ اس پروگرام سے استفادہ کرنے والے عازمین نے اسے کافی پسند کیا اور اس کی تعریف کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس مرتبہ تجرباتی طور پر پچیس ہزار عازمین حج کو گلے میں ڈالنے والے ہائی ٹیک اسمارٹ کارڈ دیئے جائیں گے۔ اس کارڈ میں عازمین حج کی صحت‘ رہائش گاہ‘ حج ٹور وغیرہ جیسی ذاتی معلومات ہوں گی۔ انہیں ایک لوکیشن ٹریکر سے منسلک کردیا جائے گا جس سے ان کی آمدورفت اور صحت وغیرہ کے متعلق معلومات حکام تک پہنچتی رہیں گی۔

ڈاکٹر ساطی نے کہا کہ اب حج اور عمرہ کے لئے الیکٹرانک ویزا سسٹم شروع کردیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں کو ویزا کے لئے سفارت خانہ آنے کی ضرور ت نہیں ہوگی بلکہ وہ اپنے گھر سے ہی ویزا کے لئے درخواست دے سکتے ہیں۔ ہندوستان کی حج کمیٹی بھی اس سسٹم کا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

سعودی سفیر نے بتایا کہ ایک اہم فیصلے کے تحت سعودی حکومت نے اب حج اور عمرہ پر جانے والوں کو دیگر شہروں کا دورہ کرنے کی بھی اجازت دے دی ہے۔ اس سے اب حج اورعمرہ پر جانے والے سعودی عرب کے مختلف شہروں میں رہنے والے رشتہ داروں سے وہاں جاکر ملاقات کرسکیں گے۔