حج 2018: فرزندان توحید منٰی کے لئے روانہ

دنیا بھر سے سعودی عرب کے شہر مکہ پہنچنے والے 20 لاکھ سے زائد مسلمان حج کے فریضے کو انجام دینے میں مصروف ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

مناسکِ حج کے پہلے روز عازمینِ حج مکہ مکرمہ سے 8 کلومیڑ دور مِنیٰ پہنچ رہے ہیں۔ عازمین کی مِنی آمد کا سلسلہ اتوار کی رات گئے تک جاری رہے گا۔ مِنیٰ میں قیام کر کے کل پیر کے روز 9 ذی الحجہ کو صبح فجر کے بعد عازمین حج عرفات کا رخ کریں گے جہاں حج کا رکن اعظم یعنی "وقوف عرفہ" ادا کیا جائے گا۔

دوسری جانب سعودی وزارت داخلہ نے مناسک حج کے آغاز سے چند گھنٹے پہلے ایک اعلان میں بتایا ہے کہ دیارِ مقدّسہ پہنچنے والے عازمین کی تعداد 20 لاکھ ہو چکی ہے۔

حج کو دنیا کا سب سے بڑا سالانہ انسانی اجتماع قرار دیا جاتا ہے، جس کے لیے مسلمان لاکھوں کی تعداد میں مکہ کا رخ کرتے ہیں۔ حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے اور تمام صاحبِ حیثیت مسلمانوں پر زندگی میں ایک بار فرض ہے۔

حج مسلمانوں کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود کو خدا کے قریب تر محسوس کر سکیں اور ایک ایسے وقت پر، جب دور حاضر کی مسلم دنیا شدت پسندی اور خونی تنازعات سمیت کئی طرح کے سنگین مسائل کا شکار ہے، دنیا بھر کے مسلمان رنگ و نسل سے بالا تر ہو کر ایک ہی جگہ پر آن ملیں۔

مصر سے تعلق رکھنے والے ایک حاجی عصام عیدین عفیفی نے، جو اس وقت حج کے لیے مکہ میں موجود ہیں، خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات چیت میں کہا، ’’ہم پر خدا کا کرم ہے کہ ہم اس وقت اس جگہ موجود ہیں۔ ہم دعا کر رہے ہیں کہ اللہ مشرق سے مغرب تک بسنے والی تمام مسلم اقوام کے حالات بہتر کرے۔ ہم یہ دعا بھی کر رہے ہیں کہ مسلم اقوام اپنی باہمی رنجشوں پر غالب آ جائیں۔‘‘

مکہ میں کعبہ مسلمانوں کے نزدیک دنیا کا مقدس ترین مقام ہے، جو بیت اللہ یا ’اللہ کا گھر‘ بھی کہلاتا ہے۔ یہ ٹھیک وہ مقام ہے، جس کی سمت دنیا بھر کے مسلمان روزانہ نمازوں کی ادائیگی کے وقت رخ کرتے ہیں۔

سعودی حکام نے اللہ کے مہمانوں کے استقبال اور ان کی خدمت کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل ہونے کی تصدیق کی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 45 سے زیادہ حکومتی اداروں کی نمائندگی کرنے والے تقریبا 2.5 لاکھ افراد اللہ کے مہمانوں کے لیے مناسک حج کی ادائیگی آسان بنانے کے واسطے خدمات پیش کرنے میں شریک ہیں۔ 

عازمین حج اپنے فریضہ کا آغاز طواف کعبہ سے کرتے ہیں، جس کے بعد وہ صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان تیز تیز چلتے ہیں۔ حج کے مناسک میں پیغمبر اسلام کے علاوہ کئی دیگر پیغمبران سے منسوب متعدد اعمال بھی شامل ہیں۔

اس سال بھی حج کے موقع پر سلامتی کے انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے سعودی عرب کی حکومت نے سخت ترین اقدامات کیے ہیں، جب کہ بھگدڑ جیسے کسی ناخوش گوار واقعے سے بچنے کے لیے بھی بہت سی احتیاطی تدابیر کی گئیں ہیں۔

سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے ہفتے کے روز صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ اس برس حج کے لیے دنیا بھر سے سعودی عرب پہنچنے والے مسلمانوں کی تعداد 20 لاکھ سے زیادہ ہے۔

سعودی عرب نے صرف منیٰ کے مقام پر سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے بھی بھاری سرمایہ خرچ کیا ہے۔ اسی مقام پر حج کی تاریخ کا ایک بہت ہلاکت خیز واقعہ تین برس قبل پیش آیا تھا۔ ستمبر 2015ء میں منیٰ میں بھگدڑ کے نتیجے میں قریب ڈھائی ہزار حجاج موت کے منہ میں چلے گئے تھے جب کہ سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔

Published: 19 Aug 2018, 4:43 PM