رکنِ اعظم وقوفِ عرفہ کے بعد حجاج نے مزدلفہ میں رات گزاری

جاج کرام کرونا وائرس سے بچنے کے لیے سعودی وزارت حج وعمرہ کی رہ نما ہدایات پر عمل کررہے ہیں، بالخصوص وہ سماجی فاصلے کے ضابطے کی بڑے منظم انداز میں پاسداری کررہے ہیں۔

تصویر  بشکریہ سعودی وزارت
تصویر بشکریہ سعودی وزارت
user

قومی آوازبیورو

اس مرتبہ فریضۂ حج ادا کرنے والے فرزندانِ توحید مکہ مکرمہ کے نواح میں واقع میدانِ عرفات میں رکنِ اعظم وقوفِ عرفہ کی تکمیل کے بعد جمعرات کی شام مزدلفہ پہنچ گئے ۔انہوں نے وہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی ادا کریں اور پھر رات آسمان کے نیچے گزاری ۔

قبل ازیں انھوں نے میدانِ عرفات میں واقع مسجد نمرہ میں خطبۂ حج سماعت کیا ، ظہر اور عصر کی باجماعت اکٹھے نمازیں ادا کیں اور نویں ذی الحجہ کا سورج غروب ہونے تک وہیں قیام کیا تھا۔

مزدلفہ میں قیام کے دوران میں حجاج کرام کنکریاں چنتے ہیں لیکن اس مرتبہ کورونا وبا کی وجہ سے حجاج کو کنکریاں ایک پیکٹ ملی ہیں ۔علی الصباح فجر کی نماز کے بعد وہ سعودی حکومت کی مہیا کردہ خصوصی بسوں کے ذریعے گروپوں کی شکل میں جمرات (منیٰ) کے لئے روانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ تینوں شیطانوں کو باری باری کنکریاں ماریں گے اور دعائیں کریں گے۔ اس کے بعد جانور قربان کریں گے۔ یہ عمل تین روز تک جاری رہے گا۔اس دوران میں حجاج کرام اپنے سر منڈوائیں گے اور کعبۃ اللہ کا آخری طواف ’’طواف زیارہ‘‘کریں گے اور یوں ان کے مناسکِ حج کی تکمیل ہوجائے گی۔

حجاج کرام کرونا وائرس سے بچنے کے لیے سعودی وزارت حج وعمرہ کی رہ نما ہدایات کی مکمل پابندی کررہے ہیں۔ بالخصوص وہ سماجی فاصلے کے ضابطے کی بڑے منظم انداز میں پاسداری کررہے ہیں اور وہ مناسک کی ادائی کے وقت ایک دوسرے سے دو میٹر کا فاصلہ رکھ رہے ہیں۔

کرونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے حجاج کو مختلف گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے،ہر گروپ بیس ، بیس افراد پر مشتمل ہے اور ان کا ایک گائیڈ مقرر ہے۔ وہ اس کی معیت ہی میں مناسک والی جگہوں پر جارہے ہیں۔

سعودی عرب نے اس سال دنیا بھر میں پھیلنے والی کرونا وائرس کی وَبا کے پیش نظر محدود پیمانے پر حج کا اعلان کیا تھا۔ سعودی حکام نے عازمین حج کا انتخاب ایک خودکار طریقے سے کیا تھا اور منتخب حاجیوں میں سعودی عرب میں مقیم غیرملکی تارکینِ وطن کی تعداد 70 فی صد ہے اور 30 فی صد سعودی شہری ہیں۔انھیں مناسکِ حج کے آغاز سے قبل مکہ مکرمہ میں ایک مخصوص ہوٹل میں ٹھہرایا گیا تھا۔وزارتِ حج و عمرہ نے عازمین کی صحت کے تحفظ کےلیے اس ہوٹل میں سخت احتیاطی تدابیر کا نفاذ کیا ہے۔ہر ایک عازم کو الگ الگ کمرا دیا گیا اور ہاتھوں کی صفائی کے لیے الگ سینی ٹائزر مہیا کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ ان منتخب عازمین حج کی عمریں 20 اور 50 سال کے درمیان ہیں۔ان کے انتخاب کے عمل میں ان غیر سعودیوں کو ترجیح دی گئی ہے جو پہلے سے کسی عارضے میں مبتلا تھے اور نہ انھوں نے ماضی میں حج کیا تھا۔منتخب سعودی شہریوں میں محکمہ صحت کے ان ورکروں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو ترجیح دی گئی ہے جو کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں خود بھی اس مہلک وَبا کا شکار ہوگئے تھے مگر بعد میں صحت یاب ہوچکے ہیں۔ (بشکریہ العربیہ ڈات نیٹ)

Published: 31 Jul 2020, 7:10 AM
next