حج 2019: لبیک اللھم لیبک کی صداؤں کے ساتھ فرزندان توحید عرفات کے لئے روانہ

وقوف عرفہ حج کا سب سے اہم رکن ہے آج اس رکن کی ادائیگی کے بعد عازمین شام کو مزدلفہ روانہ ہوجائیں گے جہاں رات آسمان تلے گذاریں گے اور رمی جمرات کے لیے 70عدد کنکریاں چن کر صبح منیٰ واپس آ جائیں گے ۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

مناسک حج کا آغاز ہوچکا ہے۔ لبیک الہم لبیک کی صداؤں کے ساتھ پوری دنیا سے عازمین حج کے مناسک اداکررہے ہیں۔ عازمین اب سے تھوڑی دیر بعد وقوف عرفہ کے لئے روانہ ہو جائیں گے ۔ عازمین نے رات منیٰ میں گزاری تمام نمازیں اپنے خیموں میں باجماعت ادا کریں ۔ عازمین عرفات میں قیام کے بعد مزدلفہ جائیں گے۔اورمغرب و عشاء کی نماز کی ادائیگی کے بعد پھر منی آجائیں گے جہاں رمی جمارکرینگے ۔عازمین حج کی سہولت کے لئے سعودی حکومت کی جانب سےسکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے ہیں ۔

حج 2019:  لبیک اللھم لیبک کی صداؤں کے ساتھ فرزندان توحید  عرفات کے لئے روانہ

سعودی عرب میں گزشتہ ایک ماہ سے فرزندان توحید لبیک اللھم لیبک کی صدائیں بلند کرتے ہوئے مقدس فریضہ حج کے عزم کے ساتھ جوق درجوق حرمین پہنچے جہاں سے کل خیموں کی بستی منی کے لئے روانہ ہو گئے تھے ۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سلطنت کو بیرون ملک سے تقریباً 25 لاکھ عازمین حج پہنچ چکے ہیں۔ گزشتہ سال کے مقابل یہ تعداد زیادہ ہے۔ سعودی حکام کی ہدایت کے مطابق منیٰ میں ازدھام سے بچنے اور حجاج کرام کے تحفظ کے لیے انھیں قبل از وقت ہی ان کی جائے قیام عمارتوں سے بسوں کے ذریعے منیٰ کی جانب روانہ کیا گیاہے۔

حج 2019:  لبیک اللھم لیبک کی صداؤں کے ساتھ فرزندان توحید  عرفات کے لئے روانہ

منیٰ میں حجاج کے قیام کے لیے سعودی حکومت نے جدید سہولتوں سے آراستہ مستقل خیمہ بستی قائم کردی ہے اور یہ منیٰ سے مزدلفہ تک پھیلی ہوئی ہے۔ ان خیموں میں حجاج کی راحت کے لیے ائیر کنڈیشنر تک لگائے گئے ہیں۔ مکہ مکرمہ کے مختلف علاقوں سے خیمہ بستی تک عازمین حج کو بسوں اور ٹرین کے ذریعے پہنچانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ البتہ منیٰ کے نزدیک علاقے میں مقیم عازمین پیدل بھی اپنے خیموں میں پہنچے۔ منیٰ کو مختلف مکاتب میں تقسیم کیا گیا ہے اور ان مکاتب کے ذمے دار معلمین نے عازمین حج کو روانگی سے قبل منیٰ میں قیام کے لیے رہ نما ہدایات جاری کر دی ہیں۔

عازمین آج میدان عرفات میں مسجد نمرہ میں خطبہ حج سنیں گے اور نمازِ ظہر اور عصر بیک وقت ایک اذان اورالگ الگ اقامت سے ادا کریں گے۔ وہ غروب آفتاب تک میدان عرفات میں وقوف کریں گے۔ وقوف عرفہ حج کا سب سے اہم رکن ہے۔اس کے بعد وہ مزدلفہ روانہ ہوجائیں گے اور وہاں پہنچ کر مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک وقت میں ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ باجماعت یا الگ الگ ادا کریں گے۔ حجاج مزدلفہ میں رات کھلے آسمان تلے گذاریں گے اور رمی جمرات کے لیے 70عدد کنکریاں چنیں گے۔ حجاج کرام اتوار دس ذی الحجہ کو نمازِ فجر کی ادا کرنے کے بعد سورج طلوع ہونے تک عقبہ جمرہ کو کنکریاں مارنے کے لیے منیٰ واپس آجائیں گے اور منیٰ میں حرم کی جانب واقع جمرات کمپلیکس میں صرف بڑے جمرہ یعنی بڑے شیطان کو7 عدد کنکریاں ماریں گے۔رمی جمرات کے بعد قربانی کا عمل ہوتا ہے اور قربانی مکمل ہونے کے بعد حجاج کرام حلق یا قصر کروا کر حالت احرام سے باہر آ جاتے ہیں۔

حج کا آخری فرض طوافِ زیارت ہے ۔ سڑکوں پر ہجوم کی وجہ سے زیادہ تر حجاج منیٰ سے پیدل راستوں کے ذریعے حرم پہنچتے ہیں ۔ عازمین حرم پہنچ کر کعبۃ اللہ کا طواف زیارت کریں گے۔پھر سعی کے بعد حجاج کرام واپس منیٰ آ جائیں گے اوررات منیٰ میں قیام کریں گے۔ اگلے دو دن یعنی 11 اور 12 ذی الحجہ کو زوال کے بعد تینوں جمرات کو 7، 7 کنکریاں ماری جائیں گی ۔ حجاج کرام اپنے مکتب کی ہدایت کے مطابق 12 ذی الحج کو غروب آفتاب سے قبل منیٰ سے واپس جاسکتے ہیں یا 13 ذی الحج کی رمی کے بعد اپنی رہائش گاہوں کی طرف روانہ ہو جائیں گے۔