سعودی خواتین کا خواب شرمندہ تعبیر! آزادانہ سفر کے لیے پاسپورٹ حاصل

سعودی عرب کی حکومت کی طرف سے رواں ماہ کے اوائل میں خواتین کی سفری آزادیوں کے لیے ایک نیا سنگ میل طے کرتے ہوئے انہیں اپنی مرضی سے اندرون اور بیرون ملک سفر کی اجازت دی گئی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

دبئی: سعودی عرب کی حکومت کی طرف سے رواں ماہ کے اوائل میں خواتین کی سفری آزادیوں کے لیے ایک نیا سنگ میل طے کرتے ہوئے انہیں اپنی مرضی سے اندرون اور بیرون ملک سفر کی اجازت دی گئی۔ اس اجازت کے بعد خواتین نے مرضی کے مطابق پاسپورٹ تیار کرانا شروع کر دیے ہیں۔ بہت سی خواتین کے لیے پاسپورٹس کا حصول ناقابل یقین خواب تھا مگر ان کا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہو گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بہت سی خواتین کو پاسپورٹ حاصل کرنے کے بعد بھی یقین نہیں آتا کہ انہیں حکومت نے کتنی آزاد فراہم کی ہے۔28 سالہ طالبہ ھیفاء نے پاسپورٹس کے دفتر سے اپنا پاسپورٹ وصول کیا تو بہت سی خواتین کی طرح خود اسے بھی یقین نہیں تھا کہ حکومت اسے اتنی سہولت دے سکتی ہے۔ پاسپورٹ دیکھ کر اس کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو رواں ہو گئے۔

وہ بیرون ملک اپنا ایم اے کا تعلیمی پروگرام مکمل کرنا چاہتی تھی مگر والدین کی طرف سے اسے بیرون ملک تنہا سفر کی اجازت نہیں تھی۔ یہ پابندی برسوں سے برقرار رہی ہے مگراب ھیفاء کو بیرون ملک سفرمیں کوئی دقت نہیں ہوگی۔

ھیفاء کا کہنا ہے کہ میرے خاندان کے کسی فرد کو میرے پاسپورٹ کا علم نہیں تھا۔ خود مجھے بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ ایک لڑکی اپنی مرضی سے پاسپورٹ اتنی آسانی کے ساتھ کیسے بنوا سکتی ہے۔ بلومبرگ نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کچھ ایسے ہی تاثرات لفیفیان ، نیریم اور سارہ القثامی کے بھی تھے جنہوں نے حال ہی میں بیرون ملک سفر کے لیے پاسپورٹس حاصل کیے ہیں۔

ھیفاء ان پہلی سعودی خواتین میں سے ایک ہی جنہوں نے خاندان کی اجازت کے بغیر پاسپورٹ حاصل کیے۔ ایسا اس لیے ممکن ہوا کیونکہ حکومت نے سرپرست کا روایتی قانون تبدیل کردیا ہے۔

برسوں تک سعودی عرب کی خواتین باپ، شوہر، بھائی یا بیٹے میں سے کسی ایک کی اجازت کی پابند رہی ہیں۔ اب وہ اپنی مرضی سے شادی اور سفر کر سکتی ہیں۔ سعودی عرب کی حکومت نے یہ انقلابی قدم رواں ماہ اٹھایا اور برسوں سے بندشوں کا شکار خواتین کو سفر کی آزادی فراہم کی۔

یہ آزادیاں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں جنہوں نے چار سال قبل ملک میں وسیع اقتصادی اور سماجی اصلاحات کا سفر شروع کیا اور بہ تدریج خواتین کی آزادیوں کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔

بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ

Published: 23 Aug 2019, 7:10 PM