سعودی عرب میں ایک ہزار سال ’قبل مسیح‘ کے آثار قدیمہ کا انکشاف

یہ آثار قدیمہ حائل شہر کے مغرب میں تقریباً 205 کلو میٹر کی دوری پر الشملی ضلع کے شمال مغرب سے دریافت ہوا ہے، یہاں چٹانوں پر بڑی تعداد میں تصویری اور تحریری نقوش موجود ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

رياض: سعودی عرب میں سیاحت اور قومی ورثے سے متعلق جنرل اتھارٹی نے حائل صوبے میں آثار قدیمہ کا ایک مقام دریافت کیا ہے جو ایک ہزار سال قبل مسیح کے زمانے کا ہے۔ یہ مقام حائل شہر کے مغرب میں تقریباً 205 کلو میٹر کی دوری پر الشملی ضلع کے شمال مغرب میں واقع ہے۔

حائل صوبے میں سیاحت اور قومی ورثے سے متعلق جنرل اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر زیاد المصیول نے بدھ کے روز بتایا کہ حالیہ دریافت حائل صوبے میں آثار قدیمہ کے خزانوں میں ایک بڑا اضافہ ہے جو علاقے میں سیاحت کی ترقی میں معاون ثابت ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ جنرل اتھارٹی اس مقام کو سیاحوں کے استقبال کے لیے تیار کرنے پر کام کرے گی۔

 سعودی عرب میں ایک ہزار سال ’قبل مسیح‘ کے آثار قدیمہ کا انکشاف

دوسری جانب حائل صوبے میں قومی ورثے کی دیکھ بھال کے شعبے کے سربراہ اور آثار قدیمہ کے ماہر سعد الرویسان کے مطابق مذکورہ مقام پر نرم ریت اور رسوبی چٹانیں پائی جاتی ہیں۔ یہاں چٹانوں پر بڑی تعداد میں تصویری اور تحریری نقوش موجود ہیں۔ ان کے علاوہ بہت سے خوب صورت اور شان دار خاکے بھی نظر آتے ہیں جو گھوڑوں اور اونٹوں کی تصاویر پر مشتمل ہیں۔ مزید برآں یہاں ثمودی دور کی تحریر کے نقوش بھی پائے جاتے ہیں۔

الرویسان کے مطابق یہ نقوش اُن خاکوں سے مکمل طور پر مماثلت رکھتے ہیں جو اس سے قبل حائل کے نزدیک مقام کے شمال مغرب میں واقع ٹھکانے الضبيبيہ اور اسی طرح جبل مسمی اور محجہ کے علاقے میں ملے تھے۔ یہاں اونٹوں اور گھوڑوں کی تصاویر کندہ کی گئی ہیں اور حائل شہر کے مغرب میں واقع علاقے میں چٹانوں پر اس نوعیت اور اس حجم کی تصاویر وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ہیں۔

(بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ)

Published: 7 Nov 2019, 5:27 PM