عرب ممالک

اسرائیلی مصنف اور امن کی آواز آموس اوز انتقال کر گئے

امن کی آواز کہلانے والے اسرائیلی مصنف آموس اوز 79 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ اوز فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے بڑے ناقدین میں سے ایک تھے۔

اسرائیلی مصنف اور امن کی آواز آموس اوز انتقال کر گئے
اسرائیلی مصنف اور امن کی آواز آموس اوز انتقال کر گئے

ڈی. ڈبلیو

آموس اوز کو اسرائیل کے سب سے زیادہ معروف ناول نگاروں میں شمار کیا جاتا تھا اور ان کا ناول ’دی ٹیل آف لوو اینڈ ڈارکنس‘‘ یا ’’محبت اور تاریکی کی کہانی‘‘ دنیا بھر میں پڑھے جانے والی کتب میں سے ایک تھا۔ اوز کی بیٹی فانیا اوز زالسبرگر نے جمعے کو اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں آموس اوز کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے مداحوں کا شکریہ ادا کیا۔ آموس اوز سن 1967 کی جنگ میں فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے پر تنقید کے اعتبار سے سب سے اہم آواز تھے۔ حالیہ کچھ عرصے میں اوز عوامی سطح پر اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے نظر آتے تھے۔

آموس اوز دیگر ممالک میں اسرائیلی کارروائیوں پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں اسرائیلی حکومت کی ’بڑھتی شدت پسندی‘ سے تعبیر کرتے تھے۔

اسرائیل میں کئی طبقات آموس اوز کو ’قوم کا ضمیر‘ قرار دیتے تھے، تاہم اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے طبقات کی جانب سے انہیں شدید تنقید کا سامنا بھی رہتا تھا۔

آموس فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے نہایت مستقل مزاجی سے بات کرتے رہے، تاہم وہ ایسے فلسطینی گروہوں کے خلاف بھی سخت موقف کے حامل تھے، جو اسرائیلی کی تباہی چاہتے ہیں۔

سن 1996 میں پیرس ریویو کو دیے اپنے ایک انٹرویو میں آموس کا کہنا تھا، ’’یہ مسئلہ (اسرائیلی فلسطینی تنازعہ) ایک تکلیف دہ سمجھوتے کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ یہ ممکن نہیں کہ آپ کافی پیتے ہوئے کسی نتیجے پر پہنچ جائیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا، ’’دونوں ممالک کے لوگوں کے درمیان پائے جانے والے تضادات کے خاتمے کے لیے ایک متفقہ اور قابل قبول سمجھوتہ ناگزیر ہے، جو اس خطے کی تقسیم کی صورت میں ممکن ہے۔‘‘